قومی اسمبلی کا ایوان اپوزیشن کے احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے باعث مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا

قومی اسمبلی کا ایوان اپوزیشن کے احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے باعث مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا

تحریک انصاف کے ارکان طویل وقفے کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوئے, اور تعداد میں کم ہونے کے باوجود بھرپور احتجاج سے اپنی موجودگی ثابت کر دی,احتجاج اس وقت شروع ہوا جب خورشید شاہ کے خطاب کے بعد سپیکر ایاز صادق نے وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کو خطاب کی دعوت دی, تحریک انصاف کے ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے ان کا مطالبہ تھا کہ پی ٹی آئی نے اس معاملے پر تحریک استحقاق جمع کرا رکھی ہے اس لیے شاہ محمود قریشی کو سعد رفیق سے پہلے خطاب کا موقع دیا جائے،اس پر سپیکر نے رولنگ دی کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے جس کی وجہ سے وہ تحریک استحقاق مسترد کر چکے ہیں, انہوں نے اپوزیشن لیڈر کو پوائنٹ آف آرڈر پر بولنے کا موقع دیا تھا اور سعد رفیق بھی پوائنٹ آف آرڈر پر حکومت کا موقف دیں گے, سعد رفیق کے بعد دیگر ارکان کو بولنے کا موقع دیا جائے گا, لیکن تحریک انصاف کے ارکان نے اس پر شدید احتجاج کیا, سپیکر کے ڈائس کے سامنے کھڑے ہو کر ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں اور وزیراعظم کے خلاف نعرے بازی کی,صورتحال کنٹرول میں نہ آئی تو سپیکر نے اجلاس کی کارروائی پندرہ منٹ کیلئے ملتوی کر دی، اس دوران اسحاق ڈار نے اپوزیشن لیڈر اور شاہ محمود کے ساتھ مشاورت سے صورتحال معمول پر لانے کی کوشش کی, اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو تحریک انصاف کے ارکان نے بدستور سپیکر کے ڈائس کے سامنے کھڑے ہو کر احتجاج کیا, جس پر سپیکر نے اجلاس جمعرات کی سہ پہر چار بجے تک ملتوی کر دیا

Most Popular