ای سی ایل کیس: سپریم کورٹ کا نیب کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر ڈاکٹر عاصم حسین کونوٹس

ای سی ایل کیس: سپریم کورٹ کا نیب کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر ڈاکٹر عاصم حسین کونوٹس

سپریم کورٹ نے ڈاکٹر عاصم کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران نیب کی جانب سے دائر ضمانت منسوخی کی درخواست پر ڈاکٹر عاصم حسین کونوٹس جاری کردیا ،عدالت نے مزید سماعت 20 جولائی تک ملتوی کردی ہے۔جمعہ کو جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ سندھ کے تمام ہسپتال صوبائی حکومت کے زیر اثر ہیں،چاروں صوبوں کے ڈاکٹرز پر مشتمل آزاد میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔دوران سماعت ڈاکٹرعاصم کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہاکہ آزاد میڈیکل پر ڈاکٹر عاصم کو نہیں مجھے اعتراض ہے،عدالت ایسی روایات نہ ڈالے جو سب کیلئے خطرناک ہو، جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم کیلئے 10 میڈیکل بورڈز کے قیام کی روایت پہلے کبھی نہیں تھی،تاہم دیکھنا ہوگا ڈاکٹر عاصم کو کوئی بیماری ہے بھی یا نہیں،اگر کوئی بیماری ہے تو اسکا علاج ملک میں ممکن ہے یا نہیں، جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ جیل کے ذیادہ تر مریضوں کو ڈاکٹر عاصم والی بیماریاں لاحق ہوگی،ڈیپرشن، بلڈپریشر اور شوگر کی بیماریاں عام ہیں، پاکستان میں سب کے ساتھ یکساں سلوک نہیں ہوتا، جسٹس اعجاز افضل نے کہاکہ کئی قیدی جیل میں مر جاتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ جلدبازی میں کوئی حکم جاری نہیں کرنا چاہتے، ہر ڈاکٹر نے ڈاکٹر عاصم کو نئی بیماری اور نیا علاج تجویز کیا، کوئی کہتا ہے نفسیاتی مسئلہ ہے، کوئی کہتا ہے سرجری کرنی ہے، جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ایک ڈاکٹر نے ہائیڈرو تھراپی کرنے کی بھی تجویز دی، سپیشل پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ میڈیکل بورڈ نے ڈاکٹر عاصم کے متعلق حتمی رائے نہیں دی، نیب پراسیکوٹر کے مطابق کمر درد کے بہانے باہر جانے والا ایک لیڈر ڈانس کرتا پایا گیا، ڈاکٹر عاصم جیل سے ویل چیئر پر عدالت آتے تھے اور جیل سے نکلتے ہی ڈاکٹر عاصم سیاسی جلسوں میں جانا شروع ہوگئے، جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ہر بڑے شخص کو میڈیکل بورڈ بیرون ملک علاج کی ہی تجویز دیتا ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ اگر یہ ضمانت کا کیس نہیں تو پاکستان میں کوئی کیس ضمانت کا نہیں ہوسکتا، بیرون ملک ڈانس کرنے والے لیڈر کو پکڑتے وقت نیب کے پر جلتے ہیں، اس موقع پر جسٹس منظور احمد ملک نے کہاکہ کھوسہ صاحب اپنے کیس تک محدود رہیں، بعد ازاں عدالت نے نیب کی طرف سے ضمانت منسوخی کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت20 جولائی تک ملتوی کردی۔

Most Popular