حسین نواز کی تصویر لیک ہونے کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

حسین نواز کی تصویر لیک ہونے کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی خصوصی بینچ نے حسین نواز تصویر لیک، جے آئی ٹی طریقہ کار اور تحقیقات میں رکاوٹوں پر جے آئی ٹی کے تحفظات سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔ حسین نواز کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں موقف اختیارکیا کہ عدالت نے جے آئی ٹی کو ضابطہ فوجداری، نیب اور ایف آئی اے قوانین کے تحت اختیارات دیئے، تحقیقاتی ٹیم اپنے طور پر کوئی طریقہ کار نہیں اپنا سکتی۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا کوئی بری بات نہیں، اس کا مقصد صرف درست متن لینا ہے، ویڈیو ریکارڈنگ سے بیان محفوظ بھی ہو جائے تو بیان زبانی ہی رہے گا، ۔۔ خواجہ حارث نے کہا کہ اگر وڈیو بیان بطور ثبوت استعمال نہیں ہوسکتا تو پھر ریکارڈنگ کی کیا ضرورت ہے، عدالت ویڈیو ریکارڈنگ کا جائزہ لے کہ کہیں ریکارڈنگ میں ٹمپرنگ تو نہیں ہوئی، اگر ایسا ہوا تو اس کے کیا نتائج ہوں گے، کیا ضمانت ہے کہ وزیراعظم کی ویڈیو لیک نہیں ہوگی، اگر ایسی کوئی وڈیو سوشل میڈیا پر آگئی تو کون ذمہ دار ہوگا۔ گواہان پر بیان تبدیلی کے لئے دباو ڈالا جا رہا ہے، عدالت جے آئی ٹی کو ویڈیو ریکارڈنگ سے روکے ۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ویڈیو ریکارڈنگ آپ کے ساتھ برا سلوک بھی نہیں ہونے دیتی لیکن یہاں اعتراضات قانونی کم اور سیاسی زیادہ ہیں، مجھے یہ صرف تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنا لگتا ہے، تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے اور بھی بہت کچھ ہو رہا ہے۔۔ جسٹس اعجاز افضل نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے جے آئی ٹی کی درخواست پڑھی ہوگی، جے آئی ٹی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے، جو جے آئی ٹی کے کام میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے وہ سپریم کورٹ کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے، جے آئی ٹی کے تحفظات کا تفصیلی جائزہ لیں رکاوٹوں کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ جسٹس شیخ عظمت نے ریمارکس دیئے کہ جے آئی ٹی کے الزامات انتہائی سنجیدہ ہیں، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ جے آئی ٹی درخواست پر عدالت کی معاونت کرسکتے ہیں۔جسٹس اعجاز افضل نے کہاکہ ایک مہم جاری ہے اور ہم اس سے آگاہ ہیں لیکن عوام کی رائے کی پرواہ کئے بغیر قانون پر فیصلہ دیں گے

Most Popular