جے آئی ٹی کے مطابق حسین نواز شریف کے بیانات میں تضاد ہے،

جے آئی ٹی کے مطابق حسین نواز شریف کے بیانات میں تضاد ہے،

جے آئی ٹی کی رپورٹ والیم ٹو کے مطابق حسین نواز کے بیانات میں تضاد پایا گیا ہے۔۔ حسین نواز نے جے آئی ٹی کے سامنے جھوٹ بولا کہ قطری شہزادے سے ملنے والی رقم سے حسن نواز نے برطانیہ میں اپنے بزنس کا آغاز کیا۔ حسین نواز نے جے آئی ٹی کو بتایا کہ میاں شریف اور قطر کے شاہی خاندان کے درمیان کوئی دستاویزی معاہدہ نہیں ہوا تھا اور نہ ہی خلیجی ریاستوں میں اس دور میں ایسے معاہدوں کا کوئی تصور تھا۔ تاہم جب پچس سال بعد رقم کی سیٹلمینٹ کا معاملہ آیا تو تب بھی کوئی معاہدہ نہیں کیا گیا۔۔ جبکہ حسین نواز کا بیان اپنے بھائی حسن نواز کے بیان سے بالکل مختلف ہے۔ حسن نواز نے کہا کہ انھیں لندن میں بزنس کے لیے حسین نواز نےچار اعشایہ دو ملین پاونڈ دیئے جبکہ حسین نواز کے مطابق حسن نواز کو یہ رقم قطری شہزادے کے نمائندے سے موصول ہوئی تھی۔ جے آئی ٹی کے مطابق قطری خطوط کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔۔ رپورٹ کے مطابق العزیزیہ سٹیل مل لگانے کی کہانی بھی جھوٹی ہے۔۔ اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی مشینری سکریپ دبئی سے خریدا گیا۔ حسین نواز جے آئی ٹٰی کے روبرو العزیزیہ سٹیل مل کے اکلوتے مالک ہونے کا بھی کوئی دستاویزی ثبوت نہیں پیش کر سکے۔۔ حسین نواز شریف سے جب جی آئی ٹی نے طارق شفیع کے بیان کہ وہ گلف سٹیل مل کے دستاویزات حاصل کرنے کے لیے حسین نواز کے کہنے پر دبئی گئے اور عبداللہ اہلی سے ملاقات کی کے متعلق پوچھا تو حسین نواز نے جواب دینے سے انکار کردیا۔ جے آئی ٹی کے مطابق نہ تو حسین نواز اور نہ ہی طارق شفیع گلف سٹیل مل کی دستاویزات کے تصدیق کے لیے نوٹری پبلک دبئی گئے۔ اور نہ ہی دستاویزات کی تصدیق کا کوئی ثبوت موجود ہے۔

Most Popular