4 مزید دہشت گردوں کو خیبر پختونخوا کی جیل میں اپنے انجام کو پہنچ گئے۔

4 مزید دہشت گردوں کو خیبر پختونخوا کی جیل میں اپنے انجام کو پہنچ گئے۔

فوجی عدالتوں کی جانب سے سزائے موت پانے والے 4 مزید خطرناک دہشت گردوں کو بھی خیبر پختونخوا کی جیل میں پھانسی دے دی گئی ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گرد دہشت گردی کی لعنت ،معصوم شہریوں کو قتل کرنے ، تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے ،افواج پاکستان اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادروں پر حملوں میں ملوث تھے ۔ ان دہشت گردوں کا ٹرائل ملٹری کورٹس میں ہوا ۔ چاروں پھانسی پانے والے دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تھا ۔ پھانسی پانے والوں میں احمد علی ولد بخت کرم ، اصغر خان ولد عزیز الرحمان ، ہارون الرشید میاں سید عثمان اور گل رحمان ولد زریں شامل ہیں ۔ دہشت گرد احمد علی افواج پاکستان ، قانون نافذ کرنے والے ادروں اور ایک سکول پر حملے میں ملوث تھا جس کے نتیجہ میں کئی جوان شہید اور زخمی ہوئے جبکہ ایک سویلین بھی شہید ہوا ۔ ملزم کے قبضہ سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ۔ ملزم نے مجسٹریٹ کے سامنے اور ٹرائل کورٹ میں اپنے جرائم کا اعتراف کیا جس پر اسے سزائے موت سنائی گئی ۔ اصغر خان افواج پاکستان ، قانون نافذ کرنے والے ادروں اور ایک تعلیمی ادرے کو تباہ کرنے میں ملوث تھا جس کے نتیجہ میں کئی جوان شہید اور زخمی ہوئے۔ ملزم کے قبضہ سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ۔ ملزم نے مجسٹریٹ کے سامنے اور ٹرائل کورٹ میں اپنے جرائم کا اعتراف کیا جس پر اسے سزائے موت دی گئی ۔ ہارون الرشید بھی افواج پاکستان ، قانون نافذ کرنے والے ادروں اور ایک تعلیمی ادرے کو تباہ کرنے میں ملوث تھا ۔ جس کے نتیجہ میں کئی جوان شہید اور زخمی ہوئے جبکہ ایک سویلین بھی شہید ہوا ۔ ملزم کے قبضہ سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ۔ ملزم نے مجسٹریٹ کے سامنے اور ٹرائل کورٹ میں اپنے جرائم کا اعتراف کیا جس پر اسے سزائے موت سنائی گئی ۔ گل رحمان افواج پاکستان پر حملے میں ملوث تھا جس کے نتیجہ میں ایک اہلکار اور ایک سویلین کی شہادت ہوئی ۔ ملزم کے قبضہ سے بارودی مواد بھی برآمد ہوا ۔ ملزم نے مجسٹریٹ کے سامنے اور ٹرائل کورٹ میں اپنے جرائم کا اعتراف کیا جس پر اسے سزائے موت سنائی گئی ۔

Most Popular