سپریم کورٹ نے مشال خان قتل پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت میں پشاور ہائیکورٹ کو جوڈیشل کمیشن کی تشکیل سے روک دیا

سپریم کورٹ نے مشال خان قتل پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت میں پشاور ہائیکورٹ کو جوڈیشل کمیشن کی تشکیل سے روک دیا

سپریم کورٹ میں مشال خان قتل کی سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ عدالت عظمیٰ نے پشاور ہائی کورٹ کو مشال خان کیس میں جوڈیشل کمیشن کی تشکیل سے روک دیا۔ عدالت نے جے آئی ٹی پر بھی سوالات اٹھادئیے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جے آئی ٹی میں حساس ادارے کے افسران کو شامل کیوں نہیں کیا گیا۔ سیکرٹری خیبر پی کے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وزیراعلی پرویز خٹک نے اسمبلی میں جوڈیشیل کمیشن کی تشکیل کا اعلان کیا تھا جس پر چیف جسٹس جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آئندہ سماعت تک جوڈیشیل کمیشن کے قیام کی وضاحت دیں۔ سارا بوجھ عدالت پر ہی کیوں ڈالا جاتا ہے۔ جے آئی ٹی کے ہوتے ہوئے جوڈیشیل کمیشن کے قیام کی کیا ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ نے مجوزہ کمیشن کے ٹی اوآر بھی طلب کرلیے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے آئی خیبر پی کے سے کہا کہ آئی جی صاحب آپ کی بہت تعریف سنی ہےپوری قوم اورعدلیہ آپ کے پیچھے کھڑی ہے ۔عدالت کوتحقیقات میں پیش رفت سے ہرہفتے آگاہ کیاجائے۔ معاملے پر کسی کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنے دیں گے۔ جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ واقعہ کے پیچھے ماسٹر مائنڈ کوسامنے لاناہوگا۔ ماسٹر مائنڈ یقینا مذہبی علم رکھتاہوگا۔ انٹیلی جنس کی مددسے ہی ماسٹر مائنڈ گرفتاہوگا۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ کیس پراثرانداز نہیں ہوناچاہتے ,عدالت کوتحقیقات سے نتائج چاہییں۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ جے آئی ٹی کوایس پی انویسٹی گیشن ہیڈ کررہے ہیں۔ جے آئی ٹی میں ڈی ایس پی اورتین انسپکٹر شامل ہیں۔ آئی بی کاایک افسربھی جے آئی میں شامل ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت ستائیس اپریل تک ملتوی کردی۔ سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی کےپی صلاح الدین محسود نے کہا کہ مشال خان کیس میں انصاف ہوگا۔ عوام سوشل میڈیا پر افواہوں پر کان نہ دھریں۔

Most Popular