نہ تو افغانستان میں سوویت حملہ ہمارے کہنے پر ہوا ،،، اور نہ ہی نائن الیون ،،، دونوں واقعات کسی اور نے کیے لیکن نتائج ہم بھگت رہے ہیں,مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ

نہ تو افغانستان میں سوویت حملہ ہمارے کہنے پر ہوا ،،، اور نہ ہی نائن الیون ،،، دونوں واقعات کسی اور نے کیے لیکن نتائج ہم بھگت رہے ہیں,مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ


اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئےمشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ نے کہا کہ،،، سوویت حملے کے وقت سوچ تھی کہ اگلی باری ہماری ہے ،،،، ہمارے جہاد کا نظر یہ استعما ل کر کے افغانستان لڑا،، ،اس وقت افغانستان کے ساتھ نہ کھڑے ہوتے تو کیا آج افغانستان ہوتا ؟ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے جو پوزیشن لی اس نے بہت زخم دئیے ،،،، ہم افغان طالبان کے ساتھ ہیں تو پاکستانی طالبان ہمارے ساتھ کیوں لڑ رہے ہیں،،، سیاسی طور پر طالبان کو شامل نہ کرنا کیا ہمارا قصور ہے ؟،،،، ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں خلا چھوڑ دیا گیا ،،، یہیں سے نائن الیون ہوا ،تجارتی راستہ روس کو پیش کردیتے تو روس آج بھی افغانستان میں ہوتا ،،، ناصر جنجوعہ نے کہا کہ معیشت اور سیکیورٹی ایک ہی سکے کے دور خ ہیں ،معیشت اور سیکیورٹی کو ایک دوسرے پر ترجیح نہیں دی جا سکتی , ناصر جنجوعہ نے مزید کہا کہ لوگ محفوظ نہیں تو سمجھا جاتا ہے ملک محفوظ نہیں ،،، بحبیثیت قوم اپنی سمت کا تعین ہو نا چاہیے،،،، قومی سلامتی کو علاقائی اور عالمی تناظر میں دیکھناہوگا ،،، سیاسی استحکام قومی سلامتی کی ضمانت ہے

Most Popular