چیف جسٹس پاکستان نے سندھ بھر میں سرکاری افسران کی تقرری وتبادلوں پر پابندی اٹھالی۔

چیف جسٹس پاکستان نے سندھ بھر میں سرکاری افسران کی تقرری وتبادلوں پر پابندی اٹھالی۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پینے کے پانی اور نکاسی آب سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ چیف سیکریٹری،ایم ڈی واٹر بورڈ سمیت دیگر افسران عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کا آغاز ہوا تو چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ شہریوں کو گندہ پانی مہیا کیا جارہا ہے۔ معاملہ انسانی زندگیوں کا ہے۔ عوام کو صاف پانی فراہم کرنا سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ عدالت کے پاس توہین عدالت کا اختیار بھی ہے۔ چسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا کہ صاف پانی نہیں ملتا تو دیگر حقوق دینے کا فائدہ نہیں انہوں نے چیف سیکریٹری سندھ سے استفسار کیا کہ ٹینکر مافیا کب ختم کریں گے۔ بتائیں شہریوں کو کب صاف پانی ملے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بھی اس لیے بلایا کہ ٹائم فریم دیں۔ آج طیارے میں لوگوں نے پوچھا، جس کیلئے کراچی جارہے ہیں وہ مسئلہ حل ہوسکے گا۔ پنجاب میں بھی پانی کا معاملہ اٹھایا ہے، حل کرکے رہیں گے۔ ایم ڈی واٹر بورڈ ہاشم رضا زیدی نے اعتراف کیا کہ بڑھتی آبادی، تعمیرات ،غیر قانونی کنکشن تباہی کا سبب ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ صاف کہنا چاہتا ہوں مجھے لیڈری کا کوئی شوق نہیں۔ آئندہ نسل کو اچھا ملک دے کر جائیں۔ پانی اورصحت کی فراہمی کےلیے جو کرنا پڑاکریں گے۔ بڑے اعتراضات کیے گئے چیف جسٹس میواسپتال گئے۔ جس کومجھ پرتنقید کرنی ہے کرلے۔ چیف جسٹس پاکستان نے سندھ بھر میں سرکاری افسران کی تقرری وتبادلوں پرعائد پابندی اٹھالی۔ چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ چیف سیکرٹری کے سوا کسی بھی افسرکا تقرر یا تبادلہ کریں۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ ماہ تک کیلئے ملتوی کردی۔

Most Popular