پنجابی صوفی شاعری کو حضرت شاہ حسین نے نہ صرف نئے جہانوں سے متعارف کرایا بلکہ راگوں اور سروں کو بھی نئی جہت دی

پنجابی صوفی شاعری کو حضرت شاہ حسین نے نہ صرف نئے جہانوں سے متعارف کرایا بلکہ راگوں اور سروں کو بھی نئی جہت دی

حضرت شاہ حسین 1538ء کو اندرون ٹیکسالی گیٹ لاہور میں پیدا ہوئے، والد گرامی شیخ عثمان کپڑے کا کاروبار کرتے تھے۔ شاہ حسین حافظ قرآن تھے۔ آپ نے حضرت بہلول کی رہنمائی میں طریقت کی منازل طے کیں۔ آپ ستائیس برس تک راوی میں کھڑے ہو کر قرآن پڑھتے رہے، وہاں سے مزار حضرت علی ہجویری حاضر ہو کر تلاوت کرتے، روزانہ روزہ بھی رکھتے تھے۔حضرت شاہ حسین انتہائی درویش صفت بزرگ اور باکمال صوفی شاعر تھے، آپ نے کافی کی صنف کو موسیقی کے سروں کے ساتھ متعارف کرایا۔ شاہ حسین کی شاعری اپنے اندر نہ صرف مطالب کی گہرائی رکھتی ہے بلکہ راگوں اور سروں کا خزانہ بھی ہے۔ حضرت شاہ حسین صاحب کرامت بزرگ اور فقیر کامل تھے۔ آپ تریپن برس کی عمر میں 1599ء کو دارفانی سے کوچ کر گئے۔ حضرت شاہ حسین کو پہلے شاہدرہ، پھر باغبان پورہ میں سپردخاک کیا گیا۔ آپ کی یاد میں مارچ کے آخری ہفتہ میں سالانہ عرس لگتا ہے جو میلہ چراغاں کے نام سے مشہور ہے۔

Most Popular