امریکا کے ساتھ ماضی کی فوجی حکومتوں نے جو معاہدے کیے , اس کے نتائج آج تک بھگت رہے ہیں:وزیر خارجہ خواجہ آصف

  امریکا کے ساتھ ماضی کی فوجی حکومتوں نے جو معاہدے کیے , اس کے نتائج آج تک بھگت رہے ہیں:وزیر خارجہ خواجہ آصف

پاک امریکا تعلقات پر سینیٹ میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیرخارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ ماضی کی فوجی حکومتوں کے سمجھوتوں کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ نام نہاد جہاد اور پراکسی وار کا حصہ نہ ہوتے تو آج حالات مختلف ہوتے۔ اب پاکستان کی خودمختاری پر سمجھوتہ ہو گا نہ ہی امریکا کی پراکسی جنگ کا حصہ بنیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے پینتالیس فیصد علاقے پر داعش قابض ہے۔ طالبان کو اپنی منصوبہ بندی کیلیے پاکستان کی ضرورت نہیں۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اپنے دورہ امریکا میں مشرف کی طرح قومی مفاد کا سودا نہیں کیا۔ پورے قد سے کھڑے ہیں، امریکی وزیرخارجہ کو وائسرائے نہیں مانتے۔ پاکستان میں دیرپا امن افغانستان میں امن سے مشروط ہے۔ افغان حکومت بھارت کیلیے سہولت کار کا ادا کر رہی ہے جو ہمیں قبول نہیں ہے۔ امریکا افغانستان میں اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرے۔ وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا کو کہا ہے کہ انٹیلی ایجنس معلومات دیں، ہم خود ایکشن کریں گے۔ امریکا سے اعتماد پر مبنی برابری کی بنیاد پر تعلقات چاہتے ہیں۔ ہمارا اقتدار امریکا کا نہیں پاکستان کے بیس کروڑ عوام کا مرہون منت ہے۔ امریکا پر واضح کر دیا ہے کہ ہمیں ان سے کسی کہ امداد نہیں چاہیے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ایک بار ہم ملاعمر کے ساتھیوں کو گھیر کر لائے تو امریکا نے ملاعمر کے انتقال کی خبر لیک کردی۔ دوسری بار ملامنصور کو مذاکرات کیلیے بلایا تو اسکو پانچ سو کلومیٹر تک کچھ نہیں کہا لیکن جب وہ ہماری حدود میں آیا تو امریکا نے اسے مار دیا۔

Most Popular