رہبر پاکستان اور آبروئے صحافت مجید نظامی کی آج تیسری برسی ہے

رہبر پاکستان اور آبروئے صحافت مجید نظامی کی آج تیسری برسی  ہے

آبروئے صحافت ڈاکٹر مجید نظامی تین اپریل انیس سو اٹھائیسء کو سانگلہ ہل میں پیدا ہوئے،،، مجید نظامی مرحوم نے اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور میں حصول تعلیم کے دوران تحریک پاکستان میں سرگرم حصہ لیا اور 1946ء کے تاریخ ساز انتخابات میں مسلم لیگی امیدواروں کی کامیابی کیلئے انتخابی مہم میں پیش پیش رہے،،، تحریک پاکستان میں آپکی خدمات کے اعتراف میں پاکستان کے پہلے وزیراعظم شہید ملت نوابزادہ لیاقت علی خان نے کالج کے دوسرے طلبا کے ساتھ انہیں بھی ’’مجاہد پاکستان‘‘ کی سند اور تلوار عطا کی، 1954ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے پولیٹیکل سائنس کرنے کے بعد نوائے وقت کی نمائندگی کیلئے لندن چلے گئے ،، حمید نظامی کی رحلت کے بعد 25 فروری 1962ء کو روزنامہ نوائے وقت کی باگ ڈور سنبھالی اور اسے صحیح معنوں میں پاکستانی قوم کی آرزوئوں اور امنگوں کا ترجمان اخبار بنا دیا،،، آپ اس ملک کو قائداعظم، علامہ محمد اقبال، مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح اور تحریک پاکستان کے لاکھوں شہداء کی امانت سمجھتے تھے،، آپکی ساری زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی اور جابر سلطانوں کے رُوبرو کلمۂ حق بلند کرنا ہمیشہ آپکا طرۂ امتیاز رہا،،، آپ نے اصولوں اور تحریر و تقریر کی آزادی پر نہ تو کبھی سمجھوتہ کیا اور نہ ہی کبھی کسی مصلحت کو آڑے آنے دیا،،، آپکی جرأت و استقامت کے سبھی معترف ہیں، قومی مفادات کی پاسداری آپکی زندگی کا مشن تھا،، حکومت پاکستان کی جانب سے آپکی خدمات کے اعتراف کے طور پر آپکو ستارۂ پاکستان‘ ستارۂ امتیاز اور نشان امتیاز دئیے گئے،،، وزیراعلیٰ پنجاب نے حکومت پنجاب کی طرف سے ڈاکٹر مجید نظامی کی 70 سالہ صحافتی اور 50 سالہ بطور مدیر روزنامہ نوائے وقت خدمات کے اعتراف میں 27 جولائی 2012ء کو لاہور کی مشہور سڑک لارنس روڈ کا نام شاہراہ مجید نظامی رکھ دیا،،، ان کی پچاس سالہ صحافت کا مرکز پاکستان کا اسلامی تشخص اور بھارت دشمنی رہا۔ ایک موقع پر انھوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ انھیں ایٹم بم سے باندھ کر انڈیا پھینک دیا جائے۔ وہ ایک دبنگ اور دلیر ایڈیٹر تھے۔ سول حکمران ہو یا فوجی حکمران کوئی بھی مجید نظامی کو ان کے اصولوں سے نہیں ہٹا سکا۔ نظریہ پاکستان سے ان کی کمٹمنٹ اور کشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف ان کی نفرت دوستوں دشمنوں سب پر واضح تھی۔ بھارت سے پاکستان کے تعلقات بارے ان کا خاص نقطہ نظر تھا جو نوائے وقت کے اداریوں سے ظاہر ہوتا تھا۔ وہ شعلہ بیان مقرر تو نہیں تھے لیکن ان کے دھیمے لہحے میں گفتگو اتنی کاٹ دار ہوتی تھی کہ مخالفین کے دل دہل جاتے تھے،،، آپ 27 رمضان المبارک 26 جولائی 2014ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے،،

Most Popular