امریکا کو کہہ دیا کہ ہم قربانی کا بکرا بننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ خواجہ آصف

امریکا کو کہہ دیا  کہ  ہم قربانی کا بکرا بننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ خواجہ آصف

وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ امریکا کو کہہ دیا کہ ہم قربانی کا بکرا بننے کے لیے تیار نہیں ہیں، امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ ہم آپ پر اعتبار نہیں کرتے، میں نے جواب دیا ہمیں بھی آپ پر اعتبار نہیں، اقوام متحدہ اجلاس پر امریکی نائب صدر نے ملاقات کا پیغام بھیجا کچھ وضاحتیں کیں، ہم نے بھارتی کردار کا معاملہ اٹھایا، پاکستان کا افغان طالبان پر اثر و رسوخ کم ہوگیا، کئی علاقوں میں طالبان اور داعش کی آپسی لڑائی ہے،امریکا سمجھتا ہے کہ ہم طالبان کو ان کے خلاف استعمال کرتے ہیں، امریکا پر واضح کیا کہ سی پیک پر کوئی سوال نہ اٹھایا جائے،واشنگٹن سے کہا کہ وہ بھارت پرمذاکرات کیلئے دبا وڈالے، نئی دہلی این ڈی ایس کے ساتھ ملکر مغربی سرحد کو بھی غیر محفوظ کر رہا ہے، امریکی پالیسی کے اعلان پر 4 ممالک سے مشاورت کی، چاروں کو اس پر تحفظات تھے اور سب نے پاکستان کے موقف کی حمایت کی، تمام دوست ممالک نے امریکا سے بات چیت کرنے کا مشورہ دیا، ہم نے اس پالیسی کے بعد امریکا سے کئی روابط منقطع کیے، امریکی وزیر خارجہ کو دورہ پاکستان سے روکا گیا، پارلیمانی قراردادوں سے بھی امریکا کو سخت پیغام گیا، اقوام متحدہ اجلاس کے موقع پر امریکی نائب صدر نے ملاقات کا پیغام بھیجا اور کچھ وضاحتیں بھی کیں، ملاقات کئی لحاظ سے مثبت رہی اور ہم نے بھارتی کردار کا معاملہ اٹھایا۔جمعرات کو قومی اسمبلی کی خارجہ امور کمیٹی کے اجلاس میں وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ امریکی نائب صدر نے واضح کیا کہ افغانستان میں بھارتی کردار معاشی ہوگا، امریکی صدر نے محفوظ پناہ گاہوں کی بات دہرائی تاہم وزیر اعظم نے امریکا کے اس موقف کو مسترد کیا، انہوں نے کہا کہ موثر بارڈر مینجمنٹ کے بغیر امریکا کو شکایت رہیں گی، ہم نے زور دیا کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کی جائے، افغان مہاجرین کی واپسی پر زور دیا گیا اور کہا کہ مہاجرین کے بھیس میں طالبان پاکستان آ سکتے ہیں، ایسی صورت میں محفوظ پناہ گاہوں کا الزام لگانا مناسب نہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس اور سینیٹر مکین نے سینیٹ کمیٹی میں دھمکی آمیز لہجہ اپنایا، جان مکین نے ویتنام کی مثال دی جس پر میں نے ان کو جواب دیا کہ ویتنام میں امریکا کو بھاگنا پڑا تھا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر ملاقات کا کہا لیکن ہم نے ماحول دیکھ کر ملاقات سے معذرت کرلی، مشاورت کے ساتھ 4 اکتوبر کو ملاقات طے پائی جو اچھی رہی، امریکی وزیر دفاع کے ساتھ بھی ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے کہا کہ ہم آپ پر اعتبار نہیں کرتے، میں نے جواب دیا ہمیں بھی آپ پر اعتبار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی تھنک ٹینکس سے خطاب میں کھل کر باتیں کیں جس کے بعد امریکی لب و لہجے میں تبدیلی آئی، کینیڈین خاندان کی بازیابی کے معاملے نے اہم کردار ادا کیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کا افغان طالبان پر اثر و رسوخ کم ہوگیا، افغان طالبان نے اپنے ٹھکانے بھی بدل لیے ہیں، کئی علاقوں میں طالبان اور داعش کی آپسی لڑائی ہے جب کہ امریکا سمجھتا ہے کہ ہم طالبان کو ان کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا پر واضح کیا ہے کہ سی پیک پر کوئی سوال نہ اٹھایا جائے، امریکا سے کہا کہ وہ بھارت پر پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے دبا وڈالے، بھارت این ڈی ایس کے ساتھ ملکر مغربی سرحد کو بھی غیر محفوظ کر رہا ہے۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ 16 سال افغانستان میں گزارنے کے باوجود بھی امریکی وزیر خارجہ بیس سے باہر نہیں نکل سکتے، امریکی وزیر خارجہ ملاقات کے لیے افغان صدر کو بنکر میں سمن کرتے ہیں جب کہ پاکستان میں سیکیورٹی صورتحال بہتر ہے اور ڈرون حملے ختم ہو چکے ہیں، پاک امریکا تعلقات کے لیے پارلیمنٹ سے رہنمائی لیں گے، پارلیمنٹ کو باہر رکھ کر تعلقات رکھنے کے نتائج بہت بھیانک ہیں جب کہ قومی مفاد پر کسی صورت رتی برابر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ امریکی پالیسی کے اعلان پر 4 ممالک سے مشاورت کی، چاروں کو اس پر تحفظات تھے اور سب نے پاکستان کے موقف کی حمایت کی، تمام دوست ممالک نے امریکا سے بات چیت کرنے کا مشورہ دیا، پاکستان نے کہہ دیا ہے کہ ہم قربانی کا بکرا بننے کے لیے تیار نہیں ہیں، ہم نے اس پالیسی کے بعد امریکا سے کئی روابط منقطع کیے۔ امریکی وزیر خارجہ کو دورہ پاکستان سے روکا گیا، پارلیمانی قراردادوں سے بھی امریکا کو سخت پیغام گیا، اقوام متحدہ اجلاس کے موقع پر امریکی نائب صدر نے ملاقات کا پیغام بھیجا اور کچھ وضاحتیں بھی کیں، ملاقات کئی لحاظ سے مثبت رہی اور ہم نے بھارتی کردار کا معاملہ اٹھایا۔

Most Popular