الیکشن کمیشن نے توہین عدالت اورپارٹی فنڈنگ کیس میں عمران خان کا معافی نامہ قبول کرلیا

الیکشن کمیشن نے توہین عدالت اورپارٹی فنڈنگ کیس میں عمران خان کا معافی نامہ قبول کرلیا

عمران خان کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت , چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کی۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے ان کے ہمراہ جہانگیر ترین اوردیگر رہنما بھی تھے, سماعت شروع ہوئی تو عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے دلائل دیئے کہ میرے موکل الیکشن کمیشن کا احترام کرتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے احکامات معطل ہونے کے باوجود پیش ہوئے معافی قبول کی جائے, انہوں نے خیبر پی کے کے چیف جسٹس کے ایک فیصلے کا حوالہ بھی دیا۔ درخواست گزار اکبر ایس بابر کے وکیل احمد حسن نے دلائل دیئے کہ عمران خان ایک بار نہیں بلکہ کئی بار توہین عدالت کرچکے ہیں ملزم کو احساس ہونا چاہیے کہ اس نے توہین عدالت کی, توہین عدالت کے حوالے سے قانون واضح ہے, بابر اعوان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی جانب سے بولے گئے الفاظ واپس لیتا ہوں۔ میں یہ الفاظ نہیں پڑھوں گا۔ اڈیالہ جیل سسرال جیسا ہے چاہے سسرال بھیج دیں۔ چیف الیکشن کمشنر کی ہدایت پر اکبر ایس بابر کے وکیل احمد حسن نے عمران خان کا بیس ستمبر کا بیان عدالت میں پڑھ کر سنایا۔ چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ اگر الفاظ پر غور کیا جائے تو کیا یہ توہین نہیں۔ اداروں کا کوئی احترام تو ہونا چاہیے۔ ممبر الیکشن کمشنر ارشاد قیصر نے کہا کہ آپ کا معافی نامہ ہمیں سمجھ نہیں آیا۔ آپ اپنے معافی نامے پر توہین عدالت کو تسلیم کریں۔ چیف الیکشن کمشنرنے ریمارکس دیئے کہ آپ ہمارے ساتھ مذاق کر رہے ہیں, آپ کے جواب میں ندامت کا ایک لفظ بھی نہیں ہے۔ ہمیں مافیہ کہا گیا معافی نہ مانگی تو فرد جرم عائد کریں گے جس پرعمران خان نےکھڑے ہوکر الیکشن کمیشن سے معافی مانگ لی جسے الیکشن کمیشن نے قبول کرلیا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ کبھی الیکشن کمیشن کی تضحیک نہیں کی۔ اکیس سال سے اداروں کی بالادستی کیلئے کوشش کررہا ہوں

Most Popular