بھارت کو کچھ نہ ملا تو اب سندھ طاس معاہدے کے خاتمے کے پیچھے پڑ گیا۔

 بھارت کو کچھ نہ ملا تو اب سندھ طاس معاہدے کے خاتمے کے پیچھے پڑ گیا۔

بھارت کو کچھ نہ ملا تو اب سندھ طاس معاہدے کے خاتمے کے پیچھے پڑ گیا۔
الزام تراشیوں اور بہتان بازی کے بعد مودی سرکار آبی جارحیت پر اتر آئی،،، اڑی حملہ ڈرامے پر کچھ حاصل نہ ہوا تو بھارت نے سندھ طاس معاہدے کا نیا ڈرامہ رچا لیا۔۔۔
وزیراعظم نواز شریف اقوام عالم کے سامنے بھارت کا مکروہ چہرہ لے کر آئے تو نریندر مودی اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے،،، پاکستان دشمنی کے بخار میں مبتلا مودی سرکار سدھ بدھ کھو چکی ہے،،، بھارت نے جارحیت کی انتہا دکھاتے ہوئے پاکستان کا پانی بند کرنے کی ٹھان لی۔۔۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960ء میں دریائے سندھ اور دوسرے دریاوں کا پانی منصفانہ طور پر حصہ داری کا معاہدہ ہوا، جسے انڈس واٹر ٹریٹی کا نام دیا گیا۔ اس پر 19 ستمبر 1960 کو بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو، پاکستان کے صدر ایوب خان اور اس وقت کے صدر عالمی بینک نے دست خط کیے۔۔۔ معاہدے کے شق میں یہ واضح ہے کہ مشرقی دریاؤں کے تمام تر پانی پر بھارت اور مغربیدریاؤں کے پانی پر مکمل طور پر پاکستان کا حق ہوگا۔ بھارت پہلے بھی اس معاہدے کی خلاف ورزیاں کرتا آیا ہے،،،

بھارتی سپریم کورٹ نے سندھ طاس معاہدے کو کالعدم قرار دینے کیلئے فوری سماعت کی درخواست مسترد

بھارتی سپریم کورٹ میں سندھ طاس معاہدہ کالعدم قرار دینے کیلئے درخواست دائر کردی گئی،،، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ پاکستان کے ساتھ معاہدے کو ختم کرنے کیلئے فوری طور پر درخواست کی سماعت کی جائے،،، عدالت نے درخواست کی فوری سماعت کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ یہ معاملہ ایسا نہیں کہ فوری سماعت کی جائے،،، اس معاملے سے سیاست کو الگ رکھا جائے۔۔
دوسری طرف سابق سکریٹری خارجہ کنول سبال بھی مودی کی پالیسیوں پر برس پڑے،،، کہتے ہیں کہ
سمجھ نہیں آتا کہ سندھ طاس معاہدے پر نظر ثانی کی بات کیوں کی جارہی ہے،،، ابھی یہ وقت نہیں آیا کہ سندھ طاس معاہدے پر نظر ثانی کی جائے،،، اگر سے ختم کیا گیا تو یہ بہت سخت قدم ہو گا،، کنول سبال کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی معاہدہ ہے، بھارتی سرکار کو ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے عالمی سطح پر معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے۔

 معاہدہ منسوخ ہوا تو عالمی مذمت کے ساتھ ساتھ بھارت کے کئی علاقے پانی میں ڈوب جائیں گے۔

بھارتی اخبار کوارٹز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت دیرینہ خواہش کے باوجود بھی سندھ طاس معاہدے کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کرسکتا،،، اخبار لکھتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت چھ دریاؤں بیاس، راوی ستلج مغربی دریائے سندھ چناب اور جہلم کے پانی کی تقسیم عمل میں لائی گئی،،، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پچاس سال سے زائد گزرنے کے باوجود اس معاہدے پر عملدرآمد کرنا بھارت کی مجبوری ہے،، یہ معاہدہ پینسٹھ اور اکتہر کی پاک بھارت جنگوں کے دوران بھی قائم رہا،،، ساڑھے چار کروڑ افراد براہ راست سندھ طاس معاہدے سے استفادہ کر ہے ہیں،،، بھارت اگر جنگی حکمت عملی کے طور پر پانی کی تقسیم کے اس معاہدے کو ختم کرے گا تو نہ صرف اس کی بھرپور عالمی مذمت کی جائے گی بلکہ پانی روکنے کی صورت میں خود بھارتی علاقے پانی میں ڈوب جائیں گے۔۔۔

Most Popular