انسداد دہشت گردی عدالت نے بینظیربھٹو قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا

انسداد دہشت گردی عدالت نے بینظیربھٹو قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا

راولپنڈی میں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے سابق وزیراعظم اور سربراہ پیپلزپارٹی بینظیربھٹو کے مقدمۂ قتل کا تقریباً دس برس بعد فیصلہ سنایا۔ عدالت نے مقدمے میں گرفتار پانچ ملزمان اعتزاز شاہ، شیرزمان،حسنین گل،رفاقت حسین اورقاری عبدالرشید کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا۔ تاہم سابق ڈی آئی جی سعود عزیز اور ایس پی خرم شہزاد کو مجموعی طور پر سترہ، سترہ سال قید اور پانچ، پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔جرمانے کی عدم ادائیگی پر پولیس افسران کو مزید چھ، چھ، ماہ قید بھگتنا ہوگی۔ دونوں افسران کو عدالتی فیصلہ کے بعداحاطۂ عدالت سےگرفتارکرلیاگیا۔عدالتی فیصلے میں سابق صدر پرویزمشرف کو اشتہاری قرار دے کر انکی جائیداد قرق کرنے کا حکم بھی دیا گیاہے, پراسیکیوٹر ایف آئی اے خواجہ امتیاز کا کہنا ہے مکمل فیصلہ پڑھنے کے بعد وہ اپیل میں جائیں گے, انہیں فیصلے پر کچھ تحفظات ہیں, واضح رہے کہ سابق ڈی آئی جی سعودعزیز اور ایس پی خرم شہزاد پر بینظیربھٹو کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے اور خودکش حملہ آور کی معاونت کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ کیس کی تین سو سے زیادہ سماعتیں ہوئیں جبکہ ایک سو اکتالیس گواہان میں سے اڑسٹھ کے بیانات قلمبند کیے گئے

Most Popular