بلوچستان کے عوام نے بھی فیصلہ سنادیا کہ نوازشریف کی بیدخلی نامنظور ہے۔ نوازشریف

بلوچستان کے عوام نے بھی فیصلہ سنادیا کہ نوازشریف کی بیدخلی نامنظور ہے۔ نوازشریف

سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدرنوازشریف نے کہا ہے کہ ووٹ کے تقدس کے لئے پوری قوم مارچ کرے گی ووٹ کی طاقت سے ٖ فیصلے ہونگے، مائنس پلس کا بہت کھیل ہوچکا جسے قوم پلس کرے کوئی اسے مائنس نہ کر سکے ،ناچنے گانے والے 2018میں فارغ ہوجائیں گے ، کروڑوں لوگ ووٹ دیتے ہیں پانچ لوگ گھر بھیج دیتے ہیں مائنس پلس کے کھیل کے بارے میں 2018 آخری فیصلہ کرنا ہوگا ، احتساب کے نام پر نوازشریف سے انتقام لیا جارہا ہے۔ نکال دیا نوازشریف کوسب اس پر شیم شیم کر رہے ہیں ۔ صادق اور امین کا فیصلہ وہ دے رہے جو آمروں کا حلف اٹھاتے رہے ۔ بلوچستان کے عوام نے بھی فیصلہ سنادیا کہ نوازشریف کی بیدخلی نامنظور ہے چھ ہیرے تلاش کر کے جے آئی ٹی بنائی ایک پیسہ کی خردبرد ثابت نہ کر سکے،عوامی فیصلہ کو کوئی پانچ رکنی اور مارشل لاء تبدیل نہیں کرسکتا نوازشریف اور محمودخان اچکزئی شانہ بشانہ ٓ ہیں ،جب پیسہ نہیں کھایا تو کیسے بیدخل کردیا ،مائنس ون فارمولے کی ناکامی پر تنخواہ نہ لینے پر نااہل کروادیا ، کوئٹہ جلد اسلام آباد سے منسلک ہوجائے گا ،زبانی جمع خرچ نہیں ہے کوئٹہ ڈیرہ اسماعیل خان برہان موٹر وے بناکر دکھا رہے ہیںیہ موٹر وے بہت جلدمکمل ہوجائے گی، سی پیک کا معاشی حب بلوچستان ہوگاجب آئے تھے لوڈشیڈنگ کے خلاف ہر طرف بلوے اور احتجاج ہوتے تھے جلد لوڈشیڈنگ مکمل طورپرختم ہوجائے گی۔ ہفتہ کو کوئٹہ میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ عبدالصمدخان جب افغانستان گیا وہاں بہترین سڑکیں تھیں اور بولے کاش پاکستان میں بھی ایسی ہوں آج ہم ان کی نظریہ پر عمل کررہے ہیں آج افغان سے اچھی سڑکیں بلوچستان میں ہیں۔افغانستان بھی ترقی کرے محمود خان اپنے والد کی مشن پر چل رہے ہیں۔ نواز شریف کو اپنے شانہ بشانہ پائیں گے ۔پاکستان میں آئین وقانون کی حکمرانی کو یقینی بنائیں گے اور یہ وعدہ محمود خان کیساتھ ہے آج کوئٹہ آ کربڑی خوشی ہوئی ہے آپ کی محبت،خلوص بہادری کا قائل ہوں نواز شریف بلوچستان کے عوام کی
بہادری کا قائل ہے آپ پاکستان کے اصلی رکھوالے ہیں قانون کی رکھوالی آپ میں ہے آمریت کا ہمیشہ مقابلہ کیا ہے میں اس کی تعریف کرتا ہوں بلوچستان کے لوگ سچے اور کھرے لوگ ہیں اور ہر آزمائش پر پورے اترے ہیں نواز شریف کو آپ پر فخر ہے اور اس لیے سلام پیش کرنے آیا ہوں آپ نے نفرت پھیلانے والوں کا مقابلہ کیا۔دہشتگردوں کا مقابلہ کیا اس کا قائل ہو کر سلام کرنے آیا ہوں ہاتھ اٹھا کر سلام قبول کرو۔بلوچستان میں چار سال سے جتنی ترقی ہوئی ہے تاریخ میں نہیں ملتی ہے چار سال قبل کسی ترقی کے اتار نہیں ہوتے تھے بلوچستان میں مثالی ترقی ہو رہی ہے گوادر سے کوئٹہ پہلے چوبیس گھنٹے میں پہنچتے تھے مگر آپ صبح فجر سے سفر شروع کرو تو ظہر کی نماز کوئٹہ میں پڑھ سکتے ہو۔مختصر عرصہ میں کوئٹہ کو اسلام آباد سے ملائیں گے کوئٹہ،ڈیرہ اسماعیل خان اور برہان ایک موٹر وے بن رہی ہے جس سے کوئٹہ سے اسلام آباد آٹھ گھنٹے میں پہنچ جائیں گے اور یہ جلد مکمل ہو جائے گی۔ بلوچستان کو سڑکوں کے ذریعے سندھ،پنجاب،کے پی کے چین سے مل رہا ہے اوریہ ہمارا وژن ہے جس پر عمل کر کے دکھایا ہے یہ زبانی باتیں نہیں عملی طور پر ہو رہا ہے جلد بلوچستان پوری دنیا سے ملے گا۔بلوچستان پاکستان کی ترقی کا مرکز ہوگا اورر گوادر اہم شہر ہوگا۔خان عبدا لصمد خان نے ترقی کی بات کی تھی ہم اس پسماندگی کو ختم کرنے کے لیے کام کررہے ہیں۔2013ء میں پاکستان میں لوڈ شیڈنگ تھی بیس گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے فیکٹریاں،کارخانے اور کسان کا ٹیوب ویل بند تھے آج کسی نے ان سے پوچھا جنہوں نے پاکستان میں اندھیرے پیدا کیے چار سال پہلے ہر طرف احتجاج ہوتے تھے اور ٹائر جلاتے تھے لوڈ شیڈنگ کا رونا روتے تھے اس کا احتساب بھی کرو میرا احتساب کرتے ہو اور احتساب کے نام پر انتقام لے رہے ہو کسی کرپشن کے مرتکب نہیں ہوئے اور نواز شریف کو نکال دیا کہ اس نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی اورعوام بھی اس پر شیم شیم کررہے ہیں یہ بھی فیصلہ ہے وزیراعظم کو نکالنے کا تنخواہ نہ لینے کی وجہ ہے نواز شریف صادق،امین نہیں ہے اور فیصلہ انہوں نے کیا جو پی سی او کا حلف لیتے ہیں کوئٹہ کے عوام اعلان کررہی ہے کہ ہمیں یہ فیصلہ منظور نہیں ہے نواز شریف کو نا اہل کرنے کے خلاف فیصلہ پہلے ایبٹ آباد والوں نے دیا آج کوئٹہ والوں نے بھی سنادیا کہ نواز شریف کی بے دخلی منظور نہیں ہے چھ ہیروں کی جے آئی ٹی بنائی بینچ نے بار بار فیصلے کیے پاکستان کی تاریخ میں ایسافیصلہ کبھی نہیں ہوا۔ایک روپے کی کرپشن کا الزام بھی نہیں ہے فیصلہ دینا تھا تو اس بات پر دیتے کہ نواز شریف نے پانچ ہزار روپے سرکاری کھایا جب پیسہ نہیں کھایا تو کیسے وزیراعظم کو بے دخل کر سکتے ہو انہوں نے کہا کہ جب مائنس ون کا بہانہ نہیں ملا تو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر باہر نکال دیا ملک ایسے فیصلوں سے تباہ ہوتے ہیں اور قسمت کھوٹی ہو جاتی ہے مائنس ون کا وہ کیا فیصلہ ہو گا جسے عوام پلس کر دیں۔ مائنس ون کوئینہیں مانے گا بلوچستان کے دوردراز علاقوں کو گیس پہنچ رہی تھی اور اس کے بعد نواز شریف کو نکال دیا گیا مگر اس کو ہر قیمت پر چمن تک پہنچائیں گے کچی کنال کو مکمل کیا۔ ستر ہزار زمین کو اس نے سیراب کیا ہے فیز ٹو میں ایک لاکھ چالیس ہزار کنال سیراب کرے گی 2018ء میں عوام فیصلہ سنائے گی اور عوام ہمیں سرخرو کرے گی دوبارہ موقع ملے گا کوئٹہ کو پاکستان کا مثالی شہر بنائیں گے جو لاہور کراچی پشاور اسلام آباد سے کم نہیں ہوگا پشاور پہلے سے خراب ہو گیا ہے نیا پاکستان بن رہا تھا۔ کرکٹر نے کہا تھا کہ لاہور میں شہباز شریف نے جنگلہ بس بنائی ہے۔اب وہی جنگلہ بس پشاور میں بنانے کی کوشش کررہا ہے چار سال ہو گئے ابھی تک نہیں بنا سکا جبکہ شہباز شریف نے لاہور ملتان اور راولپنڈی میں بنا دی موقع ملے گا تو کوئٹہ میں بھی میٹروبس بنائیں گے بجلی اب ہمار ی ضرورت سے زیادہ ہے وقت قریب ہے پاکستان میں صفر لوڈ شیڈنگ ہوگی دہشت گردی کو ختم کیا کراچی کو ٹھیک کیا پورے ملک میں موٹر وے بن رہے ہیں اب ضرورت اس بات کی ہے کہ جس کو عوام پلس کریں اس کو کوئی مائنس نہ کر سکیں۔ ووٹ سے آئیں اور جائیں کروڑوں ووٹ دیتے ہیں پانچ لوگ گھر بھیج دیتے ہیں مائنس پلس کا کھیل بہت ہو چکا 2018ء میں آخری فیصلہ کرنا ہوگا جس کو صرف 20 کروڑ عوام تبدیل کر سکیں پاکستان میں آئین کی حکمرانی کو یقینی بنائیں ووٹ کا تقدس بحال کریں گے پورے پاکستان نے ووٹ کے تقدس کے حق میں ووٹ دیا ہے بلوچستان کے عوام جس کے ساتھ ہوتے ہیں پاکستان کے عوام بھی اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔ناچنے گانے والے 2018ء میں فارغ ہو جائیں گے پوری قوم قانون کی حکمرانی کے لیے مارچ کرے گی ووٹ کے تقدس کے لیے ہمارا ساتھ دینا ہوگا تاکہ وہ ستر سال کی تاریخ دوبارہ دہرائی نہ جائے،ہفتہ کو میاں نوازشریف جب جلسے سے خطاب کے لیے آئے تو انہوں نے ڈائس پر موجود بلٹ پروف شیشہ ہٹوا دیا۔شتونخوا ملی عوامی پارٹی آج ایوب اسٹیڈیم میں اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کررہی ہے جس کے لیے جلسے کا انعقاد کیا گیا ہے۔پارٹی سربراہ محمود خان اچکزئی کی خصوصی دعوت پر میاں نوازشریف لاہور سے کوئٹہ پہنچے جہاں محمود خان اچکزئی نے ان کا استقبال کیا۔ایوب اسٹیڈیم میں جلسے کے موقع پر سیکیورٹی کے بھی سخت انتظامات ہیں، شرکا کے داخلے کے لیے واک تھرو گیٹ نصب کیے گئے ہیں۔جلسے سے قبل سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی اسپیشل سیکیورٹی ٹیم جلسہ گاہ پہنچی اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔

Most Popular