حقیقی عوامی حکمرانی سے ہی پاکستان کوبچا سکتے ہیں۔ محمودخان اچکزئی

حقیقی عوامی حکمرانی سے ہی پاکستان کوبچا سکتے ہیں۔ محمودخان اچکزئی

چیرمین پشتونخوا ملی عوامی پارٹی محمودخان اچکزئی نے کہا ہے کہ حقیقی عوامی حکمرانی سے پاکستان کوبچا سکتے ہیں، لوگ کھلے عام ملک سے کھیل رہے ہیں،مزیدیہ کھیل کھیلنے نہیں دینگے،کوئی مقابلے کا شوق رکھتے ہیں تو سو بسم اللہ، ہم تیار ہیں، سٹیٹ کے اندر سٹیٹ نہیں چلے گی ۔میاں محمد نوازشریف، اگر داروں کو ان کی حدودمیں رکھنے جہدوجہد کریں گے تو کوئی ساتھ دے نہ دے میں اللہ کو حاضر سمجھ کر آخری دم تک ساتھ دونگا۔ان خیالات کااظہار انھوں نے ہفتہ کوقوم پرست رہنما عبدلصمد خان اچکزئی کی برسی کے موقع پرجلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔محمودخان اچکزئی نے کہا کہ یہ جلسہ حقیقی وفاقی پارلیمانی جمہوری سیاسی نظام کے قیام ، آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوریت کے دفاع کے لئے منعقد کیا گیا ہے ، آج پورا ملک یہی کہہ رہا کہ ہم ہر آمریت نواز کے خلاف ہر جمہوریت نواز کے ساتھ ہیں، عبدلصمد خان اچکزئی نے اسی جمہوریت کے تحت 33 سال جیل کاٹیں۔ عوام نے ہزاروں کی تعداد میں آکر پارٹی اور نوازشریف کو عزت بخشی۔ ہمارا ملک ایک خطرناک موڑ پر کھڑا ہے ۔ پاکستان بیس کروڑ لوگوں کا ملک ہے۔ ہم ایک فیڈریشن میں جڑے ہوئے ہیں۔1947 میں پاکستان کے بعد ایک شریف انسان خان شہید عبالصمدخان اچکزئی نے صرف دو سال جیل سے باہر گزاری۔کوئی طاقت عوام کی طاقت کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ ہم نے فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا پاکستان اداروں کیلئے بنا ہے یا عوام کیلئے بنا ہے ۔ہم نے فیصلہ کرنا ہوگا کہ کوئی بھی جمہوریت کے خلاف کھڑا ہوا ہم اسکی مخالفت کریں گے۔آج پاکستان کے سب سے مقبول لیڈر میاں نوازشریف کہتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت اور جمہوری اداروں کی حاکمیت ہوگی، ہم نے اس بنیاد پر انکا ساتھ دیا اور مزید ساتھ دینگے۔ بھٹو اور ہمارے سخت اختلافات تھے، انھوں نے جب فوج کی مخالفت کی تو انھیں عدلیہ کے استعمال کے بعد پھانسی پر چڑھایا گیا ۔ بھٹو کے آپ کے ٹکر میں کھڑے ہونے کی بدولت انھیں آج عوام اچھے الفاظ میں یاد کر رہی ہے اور یہ فیصلہ اپ کے گلے میں اب بھی اٹکا ہوا ہے میاں صاحب اگر اپ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان تمام محکوم اقوام کا وفاق ہوگا تو ہم سب اپکے ساتھ ہونگے۔ ناراض بلوچوں کو میں منا لوں گا۔میاں صاحب سی پیک کیسے بنے گا ؟ جہاں گاؤں میں کتے بھونکتے ہوں وہاں بنجارا کیسے جائے گا۔ہمارا ہندونستان اور افغانستان کے ساتھ سرحدوں کے معاملے پر تنازعہ ہے جو برطانیہ نے ہمیں وراثت میں دیا۔ ہم نے عوام کی حکمرانی، اقوام کو حقوق دینے ہونگے ۔ہمارا ہندونستان کے ساتھ اور افغانستان کے ساتھ سرحدوں کی حدود کے بارے تنازعات ہیں۔ ہم نے عوام کی حکمرانی، اقوام کی برابری لا نا ہوگی تب پاکستان بچے گا۔یہاں لوگ کھلے عام ملک کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔یہ ملک ہمارا ہے، ہم کسی کو کھیل کھیلنے نہیں دینگے۔ یہاں سٹیٹ کے اندر سٹیٹ نہیں چلے گی ۔میاں محمد نوازشریف صاحب، اگر آپ اداروں کو اداروں کی حدود تک محدود کرانے، تمام اقوام کے وسائل پر انکی حکمرانی لانے کی جہدوجہد کریں گے تو کوئی ساتھ دے نہ دے میں اللہ کو حاضر سمجھ کر آخری دم تک ساتھ دونگا۔ہر جگہ کرپشن ہے ، کسی ایک فرد کا نام لینے کے بجائے گول میز کانفرنس بلائی جائے اور سب کا احتساب کیا جائے تب ملک بچے گا ۔ قصداً اور عملا ملک میں خانہ جنگی کی کوشش کی جارہی ہے ۔ یہاں میاں صاحب ہر بات نہیں کرسکتے اور انکو اب کہنی بھی نہیں چاہئے اگر کوئی مقابلے کا شوق رکھتے ہیں تو سو بسم اللہ، ہم تیار ہیں۔ نہ ہم پاکستان کے مخالف ہیںاور نہ لڑنے والے لوگ ہیں۔ انصاف نہیں ہوگا تو ملک نہیں چل سکتا۔ ماضی میں کئی ممالک کئی حصوں میں ٹوٹ چکے ہیں ۔ 155 لاکھ فوجی یورپ میں جنگوں میں مر چکے ہیں۔میری پارٹی کے کارکن ہاتھ اٹھا کر بتائیں، جمہوریت، آئین کی بالادستی کیلئے میں میاں صاحب اور ہر جمہوریت دوست کا ساتھ دے گے پارٹی کارکنوں نے ہاتھ اٹھا کر تائید کی ۔

Most Popular