عمران خان نااہلی کیس میں وکلا نے دلائل مکمل کرلئے۔

عمران خان نااہلی کیس میں وکلا نے دلائل مکمل کرلئے۔

سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے دلائل دیئے کہ عمران خان کے دونوں خطوط مصدقہ نہیں ہیں۔ جمائمہ کوایک لاکھ اسی ہزار ڈالرقرض سے زیادہ ادا کیے۔ جتنا قرض تھا اتناہی ادا کرنا چاہیے تھا۔ جسٹس عمرعطا بندیال کا کہنا تھا کہ یہ میاں بیوی کے درمیان معاملہ تھا۔ اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ معاملہ باپ بیٹے کا ہویا میاں بیوی کا قانون کی نظرمیں دیکھنا ہے۔ یہ ثابت شدہ ہے کہعمران خان نے جمائمہ سے قرض لیا۔ کاغذات نامزدگی میں قرض ظاہر نہیں کیا گیا۔ جمائمہ کی طرف سے راشد خان کورقم بھیجنے پرسوال نہیں اٹھائے۔ عمران خان کا قرض لینا الیکشن کمیشن کے ریکارڈ سے ثابت نہیں ہوتا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قرض ظاہرنہیں کیا لیکن جمائمہ کے نام اراضی کوظاہرکردیا۔ اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان نے پہلے کہا زمین جمائمہ کے لیے خریدی۔ آخری جواب میں کہتے ہیں زمین سے انکا تعلق نہیں۔ زمین براہ راست جمائما نے خریدی۔ عمران خان کے کس جواب پر انحصار کروں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جواب میں تضاد کدھر ہے۔ مان لیں جائیداد بے نامی تھی۔ جواب میں لکھا ہے کہ ادائیگی جمائمہ نے بینک کے ذریعے بھیجی رقم سے کی۔ دیکھنا یہ ہے کہ بے ایمانی ہوئی ہے۔ کیا کوئی منی لانڈرنگ ہوئی ہے۔ بیوی سے قرض لینے اور واپس کرنے میں کوئی بدنیتی ظاہر نہیں ہوتی۔ اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان اپنے موقف پر قائم نہیں رہتے۔ وہ وزیراعظم بننا چاہتے ہیں پرویز مشرف عمران خان کو وزیراعظم بنانا چاہتے تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے نوٹ کر لیا ہے۔ ایک لاکھ پاؤنڈ عمران خان کا اثاثہ تھا جو ظاہر نہیں کیا گیا۔ سماعت میں وکلا نے دلائل مکمل کرلئے۔

Most Popular