کیپٹن(ر)صفدر نے حاضری سے استثنٰی کی درخواست دائر کر دی۔

کیپٹن(ر)صفدر نے حاضری سے استثنٰی کی درخواست دائر کر دی۔

نیب ریفرنسز،کیپٹن(ر)صفدر نے حاضری سے استثنٰی کی درخواست دائر کر دی۔سابق وزیراعظم اور مریم نواز حاضری سے استثنٰی کے باعث احتساب عدالت پیش نہیں ہوئے۔نوازشریف کے اکاونٹ سے مریم صفدر سمیت دیگر افراد کو جاری چیکس کی تفصیلات عدالت میں پیش کر دی گئیں۔ العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں استغاثہ کے گواہ ملک طیب نے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا کہ مریم صفدر کو 13 جون 2015 کو 12 ملین روپے کا چیک، 15 نومبر 2015 کو 28.8 ملین روپے کا چیک جبکہ 14 اگست 2016 کو 19.5 ملین روپے کا چیک دیا گیا۔ دوسری جانب کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے بھی حاضری سے استثنٰی کی درخواست دائر کر دی، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے اپنے وکیل امجد پرویز کے ذریعے درخواست دائر کی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو 15 روز کے لیے حاضری سے استثنی دیا جائے، انکی غیر حاضری میں فیصل عرفان ایڈووکیٹ پیش ہوں گے۔خیال رہے گزشتہ روز استغاثہ کے گواہ ملک طیب نے نواز شریف کے چیکوں کی ٹرانزیکشنز عدالت میں پیش کیں، نوازشریف کی جانب سے جمع اور کیش کرائے گئے چیک بھی عدالت میں پیش کر دیئے گئے۔ احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ایک ہفتے کے لئے استثنی کی درخواست منظور کی، جس کا اطلاق منگل سے ہوا، مریم نواز کی حاضری میں استثنی کی تاریخوں میں ردوبدل کی درخواست مسترد کر دی گئی، ان کا استثنی 15 دسمبر تک برقرار رکھا گیا جبکہ عدالت نے فلیگ شپ انویسٹمنٹ، العزیزیہ سٹیل ملز اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں پیش نہ ہونے پر حسن نواز اور حسین نواز کو اشتہاری ملزم قرار دے دیا جس کے بعد اب نیب آرڈیننس کے سیکشن 512 کے تحت ملزموں کے خلاف شہادتیں ریکارڈ کی جائیں گی۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو پہلے ہی مفرور قرار دے کر ان کی جائیداد قرق کرنے کا بھی حکم دیا جاچکا ہے، نیب نے حسن نواز اور حسین نواز کی جائیداد کے حوالے سے رپورٹ بھی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں بتایا گیا کہ پاکستان میں دونوں ملزموں کی کوئی جائیداد نہیں ملی، اگر جائیداد کی تفصیلات سامنے آئیں تو عدالت میں پیش کی جائیں گی۔ ملزموں کے بینک اکاونٹس اور حصص پہلے ہی منجمد کئے جا چکے ہیں، نیب ریفرنسز سے متعلق جو گواہ نوازشریف کے خلاف شہادتیں ریکارڈ کرا رہے ہیں وہی حسن نواز اور حسین نواز کے خلاف بھی شہادتیں دیں گے اور گواہوں کے بیان بھی ریکارڈ پر لائے جائیں گے۔ حسن نواز، حسین نواز اور ان کے وکلا نیب ریفرنسز کی ایک بھی سماعت میں پیش نہیں ہوئے، جس پر عدالت نے دونوں ملزموں کے نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی برقرار رکھے ہیں۔

Most Popular