اسلام آباد کی احتساب عدالت نے اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت میں اسحاق ڈار کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کردی

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت میں اسحاق ڈار کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کردی

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں اسحاق ڈار کیخلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت جج محمد بشیر نے کی۔ اسحاق ڈار کیجانب سے ریفرنس کا ٹرائل بذریعہ نمائندہ چلانے اور حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی۔ وکیل اسحاق ڈار عائشہ حامد کا کہنا تھا کہ میرے موکل پہلے ڈاکٹر کی رپورٹس اورانجیوگرافی سے مطمئن نہیں وہ دوسرے ڈاکٹر کے پاس تشخیص کے لیے جارہے ہیں۔ تب تک کیس نمائندے کے ذریعے چلایا جائے۔ نوازشریف کے نمائندے ہی اسحاق ڈار کی نمائندگی کریں گے۔ احتساب عدالت کے جج کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کم از کم ایک مرتبہ خود عدالت کے سامنے پیش ہوں۔ دیکھیں گے کہ انہیں کیا بیماری ہے۔ کہیں وہ بھاگ تو نہیں رہے۔ اسحاق ڈار واپس آئیں تو یہاں کے ڈاکٹرز سے بھی چیک آپ کروائیں گے۔ وکیل اسحاق ڈار نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں کہ وہ بھاگ رہے ہیں۔ ڈاکٹر نے سفر کی اجازت نہیں دی تھی اس لیے واپس نہیں آئے۔ سماعت میں نیب نے اسحاق ڈار کیجانب سے پیش کی گئی میڈیکل رپورٹ کی مخالفت کردی۔ نیب پراسیکیوٹر عمران شفیق نے کہا کہ عدالت نے اسحاق ڈار کو بہت موقع دیا۔ اسحاق ڈار کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں۔ عدالت نے نیب کی استدعا مسترد کرتے ہوئے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کا فیصلہ برقرار رکھا جبکہ حاضری سے اسثنیٰ کی درخواست مسترد کردی۔ عدالت نےاسحاق ڈار کے ضامن کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیدیا۔ عدالت کے مطابق ضامن نے ملزم کو آئندہ سماعت پر پیش نہ کیا تو پچاس لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے ضبط ہو جائیں گے۔ کیس کی مزید سماعت چودہ نومبر کوہوگی۔

Most Popular