مجھ پر مقدمات نواز شریف کی بیٹی ہونے کی وجہ سے بنائے گئے۔ مریم نواز

مجھ پر مقدمات نواز شریف کی بیٹی ہونے کی وجہ سے بنائے گئے۔ مریم نواز

سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ بھگوڑے آزاد پھر رہے ہیں، جلسے کررہے ہیں،احتساب سے بھاگ رہے ہیں ان کو کوئی گرفتار نہیں کررہا ہے،جو خود کو احتساب کے لیے پیش کررہے ہیں ان کو گرفتار کیا جارہا ہے،پاناما پر چلنے والا مقدمہ جب اقامہ پر ختم ہوگا تو سوال تو اٹھیں گے اور جج حضرات کو بھی اسی کا جواب دینا پڑے گا،جب تک نواشریف کے خلاف کوئی چیز ثابت نہیں ہوتی جب تک دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں آجاتی کہ جس پر نوازشریف یا ان کے خاندان کی فرد کو پکڑا جاسکے یہ قیامت تک ٹرائل چلتے رہیں گے ۔پیر کواحتساب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ ہم گرفتاریوں سے گھبرانے والے نہیں،احتساب نما انتقام میں تحفظات کے باوجود پیش ہورہے ہیں،ہم گرفتاریوں سے گھبرانے والے نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہر بار پیش ہوکر انصاف اور عدل کی زنجیر ہلا رہے ہیں۔مریم نواز نے کہا کہ مجھ پر مقدمات نواز شریف کی بیٹی ہونے کی وجہ سے بنائے گئے،جو بھگوڑے ہیں وہ آزاد پھر رہے ہیں، جلسے کررہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ قانون آور آئین کے جتنے بھی جج ہین وہ شا ید اپنے اآپ کو تو احتساب سے بچائیں لیکن آئین اور انصاف کے نام پر جو دھبے لگے ہیں وہ شاید دھونے میں بہت عرصہ لگے۔انہوں نے کہا کہ پچھلے دنوں میڈیا پر کچھ چیزیں آئیں مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو جوابدہ وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے آئین اور قانون کا تماشہ بنا رکھ دیا ہے، پوری دنیا جانتی ہے یہ احتساب نہیں انتقام ہے، جنہوں نے 20 کروڑ عوام کے نمائندوں کو چلتا کیا ان کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بھگوڑے آزاد اور جلسے کررہے ہیں اور جو لوگ احتساب سے بھاگ رہے ہیں انہیں کوئی گرفتار نہیں کررہا مگر جو خود کو احتساب کیلیے پیش کررہے ہیں انہیں گرفتار کیا جارہا ہے،ایک سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ حسن اور حسین نواز خود اپنے فیصلے کریں گے، میرے بھائی باہر رہتے ہیں ان پر یہاں کے قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا، وزیراعظم کو نااہل کرنے اور سزا ہونے کے بعد بھی ہمارا ٹرائل کیا جارہا ہے، جب تک ایسی کوئی چیز سامنے نہیں آجاتی جس پر نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کو پکڑا جاسکے تب تک یہ ٹرائلز قیامت تک چلتے رہیں گے، وزیراعظم نواز شریف کو پہلے سے طے شدہ فیصلے پر نااہل کیا گیا۔

Most Popular