جہانگیر ترین نااہلی کیس:الیکشن فارم میں مکمل زرعی آمدن چھپائی گئی۔ چیف جسٹس

جہانگیر ترین نااہلی کیس:الیکشن فارم میں مکمل زرعی آمدن چھپائی گئی۔ چیف جسٹس

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیرنے دلائل دیئے کہ پنجاب ایگری کلچر ٹیکس کے قانون میں ابہام ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم بھی ابھی قانون کو مختلف زاویوں سے سمجھنے کی کوشش کرینگے۔ زرعی آمدن میں لیز پرلی گئی زمین کی آمدن بھی شامل ہوتی ہے۔ جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ لیز پرلی گئی زمین کا ٹیکس مالک بھی اداکررہا ہوتا ہے۔ لیز کی زمین پر کاشتکاری کرنے والا کیسے ٹیکس دے سکتا ہے۔ ایک زمین پر دو مرتبہ ٹیکس ادا نہیں ہوسکتا۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ مالک کو ٹیکس اراضی پر دینا ہوتا ہے۔ کاشتکاری پرنہیں۔ سکندر بشیر نے کہا کہ ٹیکس کا معاملہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں زیرالتوا ہے۔ عدالت کا اس نقطے پر فیصلہ زیرالتوا مقدمات پراثرانداز ہوگا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کیا عدالت عظمیٰ زیر التوامقدمات کے قانون کی تشریح نہیں کرسکتی۔ سکندر بشیر نے کہا کہ ایف بی آر نے ٹیکس گوشواروں کو درست مان کر تسلیم کیا۔ دو سال بعد ٹیکس گوشواروں کو دوبارہ نہیں کھولا جاسکتا۔ اگر فیصلے اور اپیل میں سپریم کورٹ سے فیصلہ خلاف آیا تو کیا ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ فیصلے کے بعد ٹیکس معاملے پر درخواست گزار دوبارہ عدالت سے رجوع کرسکے گا۔ سکندر بشیر نے عدالت سے استدعا کی کہ درخواست گزار کی استدعا کو مسترد کیا جائے یا پہلے متعلقہ فورمز اور عدالتوں کو فیصلہ کرنے دیا جائے۔ سکندر بشیر نے کہا کہ سپریم کورٹ کی سماعت سے جہانگیرترین کے حقوق متاثر ہونگے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود نہیں کیا جاسکتا۔ معاملہ کسی اور جگہ زیر التوا ہے توبھی اس پر غور کرسکتے ہیں۔ عدالت نے دلائل سن کر کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

Most Popular