ہمیں خود اپنے گھر کو ٹھیک کرنے کے لیے بہت کچھ کرنا ہے۔ احسن اقبال

ہمیں خود اپنے گھر کو ٹھیک کرنے کے لیے بہت کچھ کرنا ہے۔ احسن اقبال

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ ملک کو بڑے بیرونی خطرات لاحق ہیں اورہمیں خود اپنے گھر کو ٹھیک کرنے کے لیے بہت کچھ کرنا ہے،2017 کا پاکستان 2013 کے پاکستان سے بہتر ہے، ملک میں دہشت گردی اور فرقہ واریت کے واقعات میں کمی آئی ہے اور پوری دنیا پاکستان کی کامیابیوں کو تسلیم کررہی ہے، ہم امن کے میدان میں امن کو ریورس کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،کراچی کو رینجرز نے امن کا گہوارہ بنایا،بیرونی خطرات لاحق ہیں جن کا مقابلہ باہمی اتحاد سے کیا جاسکتا ہے۔پیر کوکراچی میں مزار قائد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو بڑے بیرونی خطرات لاحق ہیں جن کا مقابلہ باہمی اتحاد سے کیا جاسکتا ہے، آج کے دور کا چیلنج گلے کاٹنے اور خود کش بمبار تیار کرنے کا نہیں، ہمیں اس وقت قتل و غارت گری میں نہیں بلکہ نوبل انعام میں مقابلہ کرنا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ بڑھتی دہشت گردی میں عالمی طاقتوں کا بھی قصور ہے لیکن ہمیں خود اپنے گھر کو ٹھیک کرنے کے لیے بہت کچھ کرنا ہے، آج ہمیں بہت سارے اندرونی تضادات کا سامنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گرد سوشل میڈیا پر نوجوانوں کو ورغلانے کی کوشش کررہے ہیں، ملک کی اکثریت انتہا پسندی کی حمایت نہیں کرتی، ہم کالعدم تنظیموں کو بھی تسلیم نہیں کرتے اور یہ ہماری پالیسی کا حصہ نہیں ہے، ہمیں ملک کو انتہاپسندی اور فرقہ واریت کے کانٹوں سے پاک کرنا ہے۔احسن اقبال نے عمران خان کا نام لیے بغیر ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایک لیڈر ایسے ہیں جنہیں ہر چیز خراب نظر آتی ہے، ورلڈالیون میں پھٹیچر کھلاڑی نہیں بہترین کھلاڑی آرہے ہیں جب کہ انٹرنیشنل کرکٹ کے لیے آئی سی سی شہر کا انتخاب کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ سے تعلق نہ ہونے کی باتیں غلط ہیں، ملک کے نظام کے لیے تعلمی نصاب ایک رکھنے کی ضرورت جس کے لیے سندھ کو بھی قائل کررہے ہیں جب کہ ہائر ایجوکیشن میں قومی سطح پرنصاب کے حوالے سے بھی سندھ کو کچھ تحفظات ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ 70سالوں میں ملک بہت ہچکولے کھا لیا ہے لیکن ملک کا راستہ آئین اور جمہوریت کے ساتھ جڑا ہواہے۔احسن اقبال نے اپوزیشن جماعتوں کو منصفانہ اور شفاف انتخابات کے لیے مل بیٹھنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ الیکشن کے لیے تمام جماعتیں انتخابی قوانین پر اتفاق کریں، الیکشن منصفانہ اور شفاف کرانے کے لیے اپوزیشن جماعتیں تجاویز دیں، آئین اور قانون میں ترامیم کے لیے وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اِدھر ادھر کی سیاست نہ کرے، اسمبلی کی مدت مکمل ہونے کے بعد 2018 میں الیکشن ہوں گے، انتخابات میں ملک کی اعتدال پسند جماعتیں ہی کامیاب ہوتی ہیں۔لندن میں بانی ایم کیوایم اور نوازشریف کی ملاقات سے متعلق صحافی کے سوال پر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں اور نواز شریف لندن سیاسی سرگرمیوں کے لیے نہیں اہلیہ کی عیادت کے لیے گئے ہیں۔

Most Popular