کوئی جج یا جنرل یہ دعوی نہیں کرسکتا کہ وہ صادق اور امین ہے۔ جاوید ہاشمی

کوئی جج یا جنرل یہ دعوی نہیں کرسکتا کہ وہ صادق اور امین ہے۔ جاوید ہاشمی

ملک کے سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے پاناما کیس پر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے سیاستدانوں سے تو ان کے اثاثوں پر سوالات پوچھے جاتے ہیں لیکن کیا کوئی ججز اور فوج کے جنرلز سے بھی سوال کرے گا کہ انہوں نے یہ اثاثے کیسے بنائے؟ملتان میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے آغاز ہی میں جاوید ہاشمی نے کہا کہ شاید یہ میری آخری سیاسی پریس کانفرنس ہو، میں اس ملک میں سیاست کے 50 سال گزار چکا ہوں۔اور تاریخ کے واقعات میرے سامنے ہیں،میری یادداشت ایک فلم کی طرح چلتی رہتی ہے۔میں یہ کہنا چاہتا کہ سیاست دانوں کو کھلی کتاب کی طرح ہونا چاہیے،انہوں نے ججز اور جنرلز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کوئی جج یا جنرل یہ دعوی نہیں کرسکتا کہ وہ صادق اور امین ہے، انہوں نے مزید کہاکہ دنیا کی ایک ہی ہستی ہے جو صادق اور امین ہونے کا دعوی کرسکتی ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔سابق رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ ججز کو بھی ریمارکس دیتے ہوئے احتیاط برتنی چاہیے، انہیں کسی کو گاڈ فادر قرار دینے یا سیاسی مافیا سے تقابل کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔جاوید ہاشمی کے مطابق 'چند ریاستی اداروں اور بیوروکریسی نے ماضی میں ملک کو نقصان پہنچایا ہے جبکہ سپریم کورٹ نے آمروں کو بھی تحفظ فراہم کیا ہے'۔ان کا کہنا تھا کہ 'جسٹس نعیم حسن شاہ نے کہا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو موت کی سزا سنانے کے لیے وہ دبا وکا شکار تھے ، اگر قوم کا عدالتوں پر اعتماد قائم نہیں رہتا تو وہ کس پر بھروسہ کریں گے؟'سینئر رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ سیاست دانوں کو کھلی کتاب کی طرح ہونا چاہئے، عمران خان کے ساتھ اختلاف اصولوں کی بنیاد پر تھے۔ جاوید ہاشمی نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نواز شریف نے کھبی پسند نہیں کیا، آمریت کے دور میں پاکستان مسلم لیگ کو میں نے بچائے رکھا، اس کے باوجود نواز شریف نے میری راہ میں بڑی رکاوٹیں پیدا کیں ۔ میں نے نوازشریف کی درخواست پر شیخ رشید کیخلاف راولپنڈی میں الیکشن لڑا تو شیخ رشید کی ضمانت ضبط ہوگئی۔عمران خان سے تعلقات کے بارے میں جاوید ہاشمی نے بتایا کہ خان صاحب سے بہت اچھے تعلقات رہے مگر ان سے اختلاف اصولوں کی بنیاد پر رہا، جس کے باعث پی ٹی آئی کو خیر باد کہا۔شیخ رشید کے بارے میں جاوید ہاشمی نے بتایا کہ جب میں وزیر تھا تو شیخ رشید میرا درباری تھا، یہ نواز شریف کا بھی درباری رہا لیکن آج کل عمران خان کا بڑا درباری بناہوا ہے۔ وزارت سنبھالنے کے بعد نواز شریف نے اسے میری جاسوسی کے لئے لگادیا۔خیال رہے کہ رواں سال جون کو ایک پریس کانفرنس کے دوران سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے کہا تھا کہ 'حالیہ دنوں میں کئی مسائل سامنے آئے ہیں اور پاناما کیس کی تحقیقات کے لیے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم(جے آئی ٹی)کی ساکھ کے حوالے سے بھی مختلف شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا ہے، اگر جے آئی ٹی متنازع ہوجاتی ہے تو لوگ اس کی انکوائری کو تسلیم نہیں کریں اور نواز شریف مظلوم بن کر سامنے آئیں گے'۔

Most Popular