تین ہزار ووٹوں سے شکست کوئی شکست نہیں۔عبدالعلیم خان

 تین ہزار ووٹوں سے شکست کوئی شکست نہیں۔عبدالعلیم خان

لاہور کے حلقہ این اے ایک سو بائیس کے غیرحتمی، غیر سرکاری نتائج کے بعد تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے زبردست انتخابی مہم پر کارکنوں کو مبارکباد پیش کی، ان کا کہنا تھا کہ کارکنوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا، تحریک انصاف نے ہر مرحلے میں بےضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے، دو ہزار تیرہ اور دو ہزار پندرہ کی ووٹرز لسٹوں کا تقابل کیا جائے، جہانگیر ترین نے کہا کہ یہ ثابت ہوگیا ہے کہ لاہور ن لیگ کا قلعہ نہیں رہا، بلکہ یہاں پی ٹی آئی بھی موجود ہے، عبدالعلیم خان نے کہا کہ نتائج انہوں نے نہیں بلکہ مسلم لیگ ن نے تسلیم کرنے ہیں، صرف چار ہزار ووٹوں سے شکست شکست نہیں ہوتی، ایاز صادق سنتالیس ہزار ووٹوں سے جیت کا دعوٰی کررہے تھے، اگر ووٹر لسٹوں میں گھپلے نہ ہوتے تو یہ کسر بھی نکل جاتی، اس موقع پر چودھری سرور کا کہنا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ عبدالعلیم خان کو شکست ہوئی، چند ہزار کی شکست شکست نہیں ہوتی،حکومتی مشینری کے استعمال کے باوجود ڈٹ کر مقابلہ کیا، اگلے الیکشن میں پورا لاہور جیت کر دکھائیں گے،انہوں نے کہا کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں قومی ادارے الیکشن میں حصہ نہیں لیتے، مگر اس الیکشن میں قومی اداروں نے حصہ لیا، جو درست اقدام نہیں ہے

Most Popular