پہلے پاناما اور اب جے آئی ٹی رپورٹ میں ہونے والے انکشافات کے بعد ملک کا سیاسی پارہ طول پکڑتا جارہا ہے

پہلے پاناما اور اب  جے آئی ٹی رپورٹ میں ہونے والے انکشافات کے بعد ملک کا سیاسی پارہ طول پکڑتا جارہا ہے

پہلے پاناما اور اب جے آئی ٹی رپورٹ میں ہونے والے انکشافات کے بعد ملک کا سیاسی پارہ طول پکڑتا جارہا ہے،،، اپوزیشن وزیراعظم کے استعفے پر ڈٹ گئی، تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے رابطے تیز کر دئیے، چئیرمین تحریک انصاف عمران خان، چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ، متحدہ پاکستان، پاک سر زمین پارٹی اور وکلاء تنظیموں کی جانب سے وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ چکا ہے، اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد نواز شریف وزیراعظم رہنے کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں۔ انہیں فوری طور پر مستعفی ہو جانا چاہیے
دوسری طرف حکومتی وزرا نے جے آئی ٹی رپورٹ کو ردی اور وزیراعظم نواز شریف کے خلاف سازش قرار دیا ہے،حکومت پاناما سے متعلق رپورٹ پر اعتراضات پر مبنی پٹیشن دائر کرسکتی ہے،وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ نواز شریف کسی صورت مسعتفی نہیں ہونگے، تمام سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا، سپریم کورٹ اب اس معاملے کی سماعت 17 جولائی کو کرے گی، عدالت نے فریقین سے کہا ہے کہ وہ اس سماعت پر نئے دلائل پیش کریں اور پہلے سے کہی گئی باتیں نہ دہرائی جائیں۔ پاناما کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا یہ تو وقت ہی بتائے گا

Most Popular