الیکشن کمشن نے سپریم کورٹ میں زیر سماعت پارٹی فنڈنگ کیس میں جواب جمع کروادیا

الیکشن کمشن نے سپریم کورٹ میں زیر سماعت پارٹی فنڈنگ کیس میں جواب جمع کروادیا

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔ وکیل پی ٹی آئی انور منصور کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن از خود نوٹس لینے کا اختیار نہیں رکھتا۔ از خود نوٹس کا اختیار ہائی کورٹ کے پاس بھی نہیں۔ الیکشن کمیشن انتظامی کارروائی کرسکتا ہے۔ عدالت کہے تو ٹیکس ماہرین کو بلوا لیتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے وکیل ابراہیم ستی نے عدالت عظمی کو آگاہ کیا کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈیننس کے سیکشن میں واضح ہے کہ فنڈنگ ممنوعہ ذرائع سے نہیں ہونی چاہیے۔ پی ٹی آئی یا کسی بھی سیاسی جماعت نے اپنی غیر ملک فنڈنگ کے بارے میں کبھی الیکشن کمیشن کو نہیں بتایا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کون سی سیاسی جماعت تسلیم کرے گی کہ فنڈز ممنوعہ ذرائع سے آئے۔ کسی نے فنڈز ممنوعہ تسلیم کئے تو قبضے میں لے لیے جائیں گے۔ الیکشن کمیشن کے وکیل ابراہیم ستی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنے اکاؤنٹ تفصیلات میں فارن فنڈز کا ذکر تک نہیں کیا جس سے سکروٹنی نہی ہوسکی۔ پی ٹی آئی نے جان بوجھ کر فراڈ کیا اور حقائق چھپائے۔ شکایت ملنے پر الیکشن کمیشن نے کارروائی کی۔ اکبر ایس بابر گھر کے بھیدی ہیں جنہوں نے لنکا ڈھائی۔ الیکشن کمیشن کسی کی بھی درخواست پر کارروائی کرسکتا ہے۔ الیکشن کمیشن کو ماضی کے اکاونٹس کا جائزہ لینے کا اختیار ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کہ الیکشن کمیشن بطور اتھارٹی انکوائری کرسکتا ہے۔ پی ٹی آئی کے وکیل کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو تمام فنڈنگ بذریعہ بینک پاکستان منتقل ہوتی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس بات کے کیا شواہد ہیں۔ انور منصور نے کہا کہ کل تمام تفصیلات جمع کروادوں گا۔ حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ پی ٹی آئی یو ایس اے ایل ایل سی نے بھارت سمیت غیر ملکیوں سے فنڈز لیے۔ عدالت میں بھی ویب سائٹ کھول کر دیکھا جا سکتا ہے۔ پی ٹی آئی نے تفصیلات چھپائیں،عدالت نے دلائل سننے کے بعد سماعت کل تک ملتوی کردی۔

Most Popular