کارکنان 15 تاریخ کو جوڈیشل اکیڈمی نہ آئیں۔ وزیراعظم کا پیغام

کارکنان 15 تاریخ کو جوڈیشل اکیڈمی نہ آئیں۔ وزیراعظم کا پیغام

وزیراعظم نواز شریف نے لیگی کارکنان کو جوڈیشل اکیڈمی آنے سے روک دیا ہے۔ اپنے پیغام میں وزیراعظم کا کہنا ہے کہ مجھے ا١پنی دعاوں میں یادرکھیں۔وزیراعظم کے معاون خصوصی آصف کرمانی کے مطابق وزیراعظم جمعرات کو فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں ہونے والے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونگے۔ جہاں وہ کمیٹی کو اپنا جواب ریکارڈ کرائیں گے۔ اس موقع پر لیگی کارکنان کی بڑی تعداد نے وزیراعظم سے اظہار یکجہتی کے لئے جوڈیشل اکیڈمی آنے کا اعلان کر رکھا ہے جس پر آج وزیراعظم کی جانب سے یہ بیان آیا ہے کہ لیگی کارکنان 15 جون کو جوڈیشل اکیڈمی کی طرف نہ آئیں۔ اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ لیگی کارکن پارٹی کا عظیم سرمایہ ہیں ان کے جذبات کی قدر کرتے ہیں۔کارکن مجھے اپنی دعاں میں یادرکھیں۔ انشااللہ سرخرو ہونگے۔
دوسری جانب اسلام آباد کی مختلف شاہراہوں پر وزیراعظم کے حق میں بینرز آویزاں کردئیے گئے ہیں۔ مذکورہ بینرز سینیٹرعباس خان آفریدی کی جانب سے آویزاں کئے گئے ہیں ۔ جن پر نواز شریف تیری عظمت کو سلام کے نعرے درج ہیں۔ اس کے علاوہ قدم بڑھا نواز شریف ، قوم تمہارے ساتھ ہیں کے نعرے بھی درج ہیں ۔اس سے قبل سلام آباد کی سی ڈی اے انتطامیہ نے جوڈیشل اکیڈمی کے اطراف سڑکوں کی مرمت اور رنگ وروغن کا کام شروع کردیا ہے۔ وزیراعظم کی جوڈیشل اکیڈمی میں آمد کے لئے سیکیورٹی پلان کو بھی حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ زرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کی آمد سے قبل علاقے میں جیمرز نصب کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ جوڈیشل اکیڈمی کو تین سیکیورٹی حصار میں ترتیب دیا گیا ہے۔ اکیڈمی کے اندر ایلیٹ فورسز کے جوانوں کو تعینات کیا جائے گا جبکہ بیرونی سیکیورٹی کی ذمے داری رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ہوگی۔زرائع کا مزید کہنا ہے کہ جوڈیشل اکیڈمی سے متصل آئی ایٹ پارک کو بھی بند کردیا جائے گا اس کے علاوہ جب تک وزیراعظم جوڈیشل اکیڈمی میں موجود رہیں گے اس وقت تک جوڈیشل اکیڈمی کے ملازمین اپنے دفتر سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔واضح رہے کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی چھ رکنی جے آئی ٹی نے وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کو جمعرات کو پیش ہونے کا نوٹس بھیج رکھا ہے۔ نوٹس کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کو 15 جون بروز جمعرات صبح 11 بجے اسلام آباد میں فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں جے آئی ٹی کے سامنے طلب کیا گیا ہے۔جے آئی کی جانب سے بھیجے گئے نوٹس میں وزیراعظم نواز شریف کو دستاویزات اور ریکارڈ ہمراہ لانے کا کہا گیا ہے جبکہ وزیراعظم ہاوس نے نوٹس کی وصولی کی تصدیق کر دی ہے اور کہا ہے کہ وزیراعظم جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔ اس سے قبل نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز پانچ بار اور حسین نواز دو بار جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم کے سامنے پیش ہوچکے ہیں۔ وزیرِ اطلاعات مریم اورنگزیب نے اس معاملے پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے جے آئی ٹی میں جانے کے فیصلے سے پاکستان میں ایک نئی تاریخ رقم ہورہی ہے

Most Popular