ہم پرالزام لگانے والے کم ازکم یہ توبتائیں کہاں رشوت کھائی۔ نوازشریف

ہم پرالزام لگانے والے کم ازکم یہ توبتائیں کہاں رشوت کھائی۔ نوازشریف

وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ ہم پرالزام لگانے والے کم ازکم یہ توبتائیں کہاں رشوت کھائی، ہمارے کسی دورمیں کرپشن سمیت خورد برد کا کوئی کیس ہے تو بتایا جائے، کوئی ای او بی آئی، نندی پور، رینٹل پاور، نیشنل انشورنس کا کیس ہے توسامنے لائیں، پاکستان میں حکومتیں ہمیشہ کرپشن اورسکیورٹی رسک پرنکالی گئیں، دامن صاف ہے، ضمیر پر کوئی داغ نہیں، پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاستدان نے اپنے خاندان سمیت خود کو اس طرح احتساب کے لئے پیش نہیں کیا،پاکستان 70سال سے جس طرح چل رہا ہے یہ واقعہ اس کا نمونہ ہے، ملک کو روشن کرنے کی کوشش کی سزا دی جا رہی ہے، چارسال میں موٹروے، توانائی کے کھربوں روپے کے منصوبے لگائے، فوج کے ساتھ مل کر آپریشن کا فیصلہ کیا اوردہشت گردی کی کمر توڑ دی ،کبھی اصولوں پر سودے بازی نہیں کی، کوئی این آراوسائن نہیں کیا، مجھے کہا گیا اس کاغذ پر دستخط کردو، میں نے کبھی عوام کے مینڈیٹ اورجمہوریت پر سمجھوتہ نہیں کیا،بے نظیرکے ساتھ میثاق جمہوریت پردستخط کر کے بہت اچھا لگا جب بہت دکھ ہوا جب چند ہفتے بعد بے نظیرنے این آراو سائن کردیا، میری پرویز مشرف سے ملاقات کے لئے بہت کوششیں کی گئیں لیکن میں نے کہا اب اس نصب العین سے نہیں ہٹ سکتا،کسی خطرے کی فکر کئے بغیر جان ہتھیلی پررکھ کرعدلیہ بحالی کی جنگ لڑی تو آج باتیں کرنے والے چھپ گئے تھے، آئین، آزاد عدلیہ اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہوں، ہمارے آتے ہی مہم شروع کر دی گئی، دھرنے کا کوئی جوازنہ تھا، آپ کے مینڈیٹ پر وار ہورہا ہے جبکہ یہ تیسرے دھرنے کی تیاری ہے، بڑے واقعات ہوئے جو میں مجمع میں نہیں بتا سکتا، بعض اوقات دل کرتا ہے سب کچھ بتا دوں پرایسا وقت ضرورآئے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف بھی خصوصی طور پر اجلاس میں شریک ہوئے۔ وزیراعظم جب اجلاس میں شرکت کے لئے پہنچے تو اراکین نے تالیاں اور ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا۔وزیر اعظم نواز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں ایک لفظ ایسا نہیں کہ نوازشریف کسی کرپشن میں ملوث ہو، صرف حالیہ نہیں اپنے ہردورکی بات کرتا ہوں مجھ پرکبھی کرپشن کا الزام نہیں لگا، ہمارے کسی دورمیں کرپشن سمیت خورد برد کا کوئی کیس ہے تو بتایا جائے جبکہ کوئی ای او بی آئی، نندی پور، رینٹل پاور، نیشنل انشورنس کا کیس ہے توسامنے لائیں۔ نوازشریف نے کہا کہ پاکستان میں حکومتیں ہمیشہ کرپشن اورسکیورٹی رسک پرنکالی گئیں، پاکستان 70سال سے جس طرح چل رہا ہے یہ واقعہ اس کا نمونہ ہے۔ یہ اتار چڑھاؤ میں 70 سال سے دیکھ رہا ہوں اور موجودہ واقعات 60 سال کے وقت کا احاطہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے گذشتہ تمام ادوار میں کک بیک یا مالی بدعنوانی کا کوئی ایک الزام بھی ثابت نہیں ہو سکا۔ ابھی بھی ان کے ہاتھ صاف ہیں۔ دامن صاف ہے، ضمیر پر کوئی داغ نہیں، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہمیشہ سیاستدانوں نے خود کو احتساب کے لئے پیش کیا ،پاکستان کی تاریخ میں آج تک کسی سیاستدان نے اپنے خاندان سمیت خود کو اس طرح احتساب کے لئے پیش نہیں کیا جس طرح ان کا احتساب ہوا، وزیراعظم نے (ن) لیگی ارکان قومی اسمبلی و سینیٹ سے کہا کہ وہ پراعتماد رہیں اور ڈنکے کی چوٹ پر اس بات کا دفاع کریں کہ نوازشریف کا پورا خاندان کسی قسم کی کرپشن اور کک بیکس میں کسی طرح بھی ملوث نہیں ہے اور جس طرح وہ پہلے سرخرو ہوتے رہے ہیں۔ آئندہ بھی اس سارے معاملہ سے سرخرو ہو کر نکلیں گے۔ ۔ نواز شریف نے کہا کہ فوج کے ساتھ مل کرآپریشن کا فیصلہ کیا اوردہشت گردی کی کمرتوڑ دی جبکہ ملک کو روشن کرنے کی کوشش کی سزا دی جا رہی ہے، چارسال میںکراچی اور پنجاب سمیت ہر جگہ پر موٹروے، توانائی کے کھربوں روپے کے منصوبے لگائے، پا کبھی اصولوں پر سودے بازی نہیں کی، کوئی این آراوسائن نہیں کیا، مجھے کہا گیا اس کاغذ پر دستخط کردو، میں نے کبھی عوام کے مینڈیٹ اورجمہوریت پرکمپرومائز نہیں کیا، بے نظیرکے ساتھ میثاق جمہوریت پردستخط کر کے بہت اچھا لگا ، انہیں خوشی تھی کہ جمہوری نظام کی مضبوطی کے لئے ایک نیا معاہدہ ہونے جا رہا ہے اور اب پاکستان میں جمہوریت کا نیا دور شروع ہو جائے گا مگر انہیں اس وقت بہت دکھ ہوا جب چند ہفتے بعد بے نظیرنے ایک آمر کے ساتھ این آراو سائن کردیا، میری پرویز مشرف سے ملاقات کے لئے بہت کوششیں کی گئیں لیکن میں نے کہا اب اس نصب العین سے نہیں ہٹ سکتا۔ نوازشریف کا کہنا تھا کہ میں نے عدلیہ بحالی کی جنگ لڑی تو آج باتیں کرنے والے چھپ گئے تھے، کسی خطرے کی فکر کئے بغیر جان ہتھیلی پررکھ کرعدلیہ کی آزادی کی جنگ لڑی اورآئین، آزاد عدلیہ اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہوں،ان کا کہنا تھا کہ امریکی اور برطانوی رہنماؤں کے مجھے فوج آئے کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے اور عدلیہ کی بحالی کے لئے لانگ مارچ لے کر نہ نکلیں لیکن میں ہمیشہ قانون کی حکمرانی اور عدلیہ پر یقین رکھتا ہوں اور عدلیہ کی آزادی کے لئے ہی میں نے لانگ مارچ کیا تھا۔ یہ مشکل مشن تھا ہم مخلص تھے اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں کامیابی دی۔ ہمارے آتے ہی مہم شروع کر دی گئی، دھرنے کا کوئی جوازنہ تھا، آپ کے مینڈیٹ پر وار ہورہا ہے جب کہ یہ تیسرے دھرنے کی تیاری ہے، انہیں کوئی نہیں دیکھتا جو ملک کو تباہ کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سے ان کی حکومت آئی ہے اس وقت سے ملک اور ان کے ساتھ یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے،دوسرے دھرنے میں کیا ہوا ۔بڑے واقعات ہوئے جو میں مجمع میں نہیں بتا سکتا، بعض اوقات دل کرتا ہے سب کچھ بتا دوں پرایسا وقت ضرورآئے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کو تباہ کرنے والوں نے ملک کو اندھیرے میں غرق کیا۔ انہیں کوئی نہیں دیکھتا۔ ہم نے ملک کو روشن کیا ہے۔ عوام نے انہیں جو مینڈیٹ دیا ہے وہ سوچ بھی نہیں سکتے۔ استعفیٰ دیں، ان کاکہنا تھا کہ مختلف حربوں کے ذریعے پاکستان کو دوبارہ پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم وہ ایسا کسی صورت نہیں ہونے دینگے اور پاکستان کے عوام کے لئے آخری وقت تک لڑیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام اور جمہوریت کے لئے آخری وقت تک مقابلہ کرینگے اور انہیں یقین ہے کہ سپریم کورٹ ان کی بات سنے گی اور قوم بھی سب کچھ دیکھ رہی ہے۔ قوم کے بچے بچے کو پتہ ہے اس لئے وہ استعفیٰ دینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو استعفیٰ مانگ رہے ہیں وہ ان کے بدترین مخالف نہیں اور استعفیٰ مانگنے والوں نے (ن) لیگ کو ووٹ نہیں دیا۔ یہ سارے ووٹ اکٹھے بھی کر لئے جائیں تو (ن) لیگ کے ووٹ ان سے زیادہ بنتے ہیں۔ وزیراعظم نے اراکین پارلیمنٹ کو خراج تحسین پیش کیا کہ وہ منفی پراپیگنڈے کے باوجود ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور پاکستان کے عوام بھی ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہی ان کی سب سے بڑی فتح اور اثاثہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سارا کچھ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کسی طرح موجودہ دور کی مدت پوری نہ ہو اور ایک دفعہ پھر انہیں وہاں سے نکال دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو جمہوری قوت سے ایٹمی قوت بنانے تک تمام اعزازات ان کے پاس ہیں۔ ملک اور جمہوریت کے لئے انہوں نے قربانیاں دی ہیں۔ دوسری طرف ایسے لوگ ہیں جو جمہوریت کی قبریں کھود رہے تھے اور آج وہ استعفیٰ مانگ رہے ہیں۔ ان کے پورے خاندان کے خلاف کارروائی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کے پانچ ادوار اور شہباز شریف کے تین ادوار کا احتساب کیا جائے اگر ان پر کرپشن کا ایک دھیلا بھی ثابت ہو جائے تو وہ قصور وار ہوں گے۔ نوازشریف کا کہنا تھا کہ متنازعہ جے آئی ٹی رپورٹ مخالفین کے بے بنیاد الزامات کا مجموعہ ہے۔ رپورٹ میں ہمارے موقف اور ثبوتوں کو جھٹلانے کے لئے کوئی ٹھوس دستاویز پیش نہیں کی گئی۔ رپورٹ میں ہمارے خاندان کے 62 سالہ کاروباری معاملات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروباری معاملات کو مفروضوں، بہتانوں اور الزام تراشیوں کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔ موجودہ صورتحال پاکستان کی 70 سالہ تاریخ کا عکس ہے۔ میرے پانچوں ادوار میں کرپشن کا کوئی بھی کیس ہے تو بتاؤ، کوئی ایک جملہ ایسا نہیں جس سے اشارہ بھی ملے کہ نوازشریف کرپشن کا مرتکب ہوا ہے۔ اگر شہباز شریف کے ادوار میں اگر رتی بھر کرپشن کا کوئی کیس ہے تو بتاؤ۔ ان کا کہنا تھا کہ سکینڈل تو دور کی بات رپورٹ کے چار ہزار صفحات میں کرپشن اور بدعنوانی کا کوئی الزام نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے راستے میں ہمیشہ مشکلات کھڑی کی گئی ہیں مگر میں ہمیشہ اپنے نظریے اور موقف پر ڈٹا رہا ہوں۔ مشرف دور میں مجھے نااہل قرار دے کر انتخابات سے باہر کیا گیا مگر میں نے آمریت کے سامنے بھی سر نہیں جھکایا ۔

Most Popular