سپریم کورٹ نے ملک ریاض کو عدلیہ کے خلاف کسی بھی قسم کا بیان دینے سے روک دیا۔

سپریم کورٹ نے ملک ریاض کو عدلیہ کے خلاف کسی بھی قسم کا بیان دینے سے روک دیا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے عدلیہ کے خلاف بیان دینے پر ملک ریاض کے خلاف از خود نوٹس کی سماعت جسٹس شاکر اللہ جان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت ملک ریاض کو حکم دیا گیا کہ وہ سپریم کورٹ کے خلاف میڈیا میں کسی قسم کا بیان دینے سے گریز کریں جس پر ملک ریاض نے سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی کہ وہ آئندہ گریز کریں گے۔ جسٹس شاکر اللہ جان نے ملک ریاض کو آئندہ سماعت پر اپنے وکیل کو ساتھ لانے کا حکم دیا جس پر ملک ریاض نے دس دن کی مہلت مانگتے ہوئے کہا کہ انہوں نے متعدد وکلاء سے رابطہ کیا لیکن کوئی بھی وکیل ان کا کیس لینے کو تیار نہیں ہے۔جسٹس شاکر اللہ جان نے ملک ریاض سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو دس روز نہیں البتہ ایک ہفتے کی مہلت دی جا سکتی ہے اور امید ہے کہ کوئی اچھا اوکیل مل جائے گا۔ ملک ریاض نے بتایا کہ انہوں نے اعتزاز احسن سمیت کئی وکلا سے رابطہ کیا ہے۔دوسری جانب سپریم کورٹ نے ملک ریاض کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلیے دائر درخواست کو مسترد کردیا۔ سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ ملک ریاض ہمارے ایک نوٹس پر لندن سے پاکستان آگئے، وہ عدالت سے تعاون کر رہے ہیں اور ان کا رویہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ عدالت سے تعاون کرتے رہیں گے۔ کیس کی مزید سماعت اکیس جون تک ملتوی کردی گئی۔

About the author /

Waqt News

Waqt News Web Team

Most Popular