سپریم کورٹ نے عمران خان نااہلی کیس پر فیصلہ محفوظ کرلیا

سپریم  کورٹ نے عمران خان نااہلی کیس پر فیصلہ محفوظ کرلیا

عمران خان نااہلی کیس کی سماعت میں ان کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیئے کہ جتنی دستاویزات اکٹھی کرسکتے تھے وہ عدالت میں پیش کیں۔ درخواست گزار کے مقدمے سے ہٹ کرعدالت نے سوالات پوچھے۔ عدالت کے سوالات پر دستاویزات لائیں گئیں۔ درخواستگزار حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ عدالت نے عمران خان کو اپنے بیان میں تبدیلی کی اجازت نہیں دی۔ نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کچھ چھپایا ہوتا تو ریٹررننگ افسر ان کے دستاویزست مسترد کرسکتے تھے۔ عمران خان کے ریٹرن پر الیکشن کمیشن نے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اس وقت ریٹرننگ افسر نے معاملہ نہیں دیکھا۔ کیا عدالت اب کاغذات نامزدگی کو نہیں دیکھ سکتی۔ نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ کاغذات میں اثاثے یاغلط بیانی کی بات دوہزار دو کی ہے۔ دوہزار دو کی غلط بیانی پر موجودہ الیکشن پر نااہلی مانگی گئی ہے۔ عمران خان سے دوہزار دو کےاثاثے بتاتے ہوئے غلطی ہوسکتی ہے غلط بیانی نہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کاغذات نامزدگی میں تنخواہ کونہ بتانا غلطی ہے یا غلط بیانی۔ جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ اثاثے چھپانے اور غلطی میں فرق ہے۔ عمران خان نے اپنا یورواکاونٹ ظاہر نہیں کیا۔ نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ عدالت نے ایماندار اور ایمانداری میں فرق کرنا ہے۔ اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ عدالت پانامہ فیصلے کانظرثانی فیصلہ بھی دیکھ لے۔ نعیم بخاری کہتے ہیں کہ اثاثے نہ بتانا غلطی ہوسکتی ہے۔ عمران خان نے جمائمہ کے پاکستان کے باہر کے اثاثے نہیں بتائے۔ نظرثانی کے فیصلے کے بعد کاغذات نامزدگی کے پیرامیٹرز,سخت ہوچکے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ بتائیں کہ ماضی کی غلط بیانی موجودہ الیکشن پرکیسے اثر پڑسکتا ہے۔ آپ نے جمائمہ کے اثاثے چھپانے کا ذکر دلائل میں نہیں کیا۔ اکرم شیخ نے کہا کہ غلطی کو بے ایمانی صرف پانامہ فیصلے میں قرار نہیں دیا۔ غلطی کو بے ایمانی پہلے ہی کہیں فیصلوں میں قرار دیا جاچکا ہے۔ عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ توقع نہ کریں کہ فیصلہ کل آجائے گا

Most Popular