سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین نااہلی کیس کا فیصلہ بھی محفوظ کرلیا

سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین نااہلی کیس کا فیصلہ  بھی محفوظ کرلیا


سپریم کورٹ میں جہانگیرترین نااہلی کیس کی سماعت میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ لندن ہائیڈ ہاوس کامالک کون ہے۔ ہائیڈ ہاؤس کی لینڈ رجسٹری کس کے نام ہے۔ وکیل جہانگیر ترین سکندر بشیرنے آگاہ کیا کہ شائنی ویو ہائیڈ ہاؤس کی مالک ہیں۔ لینڈ رجسٹری شائنی ویو کے نام ہے۔ دس مئی کو جائیداد شائنی ویوکمپنی نے خریدی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ جائیداد خریدنے کی ہدایت کس نے دی تھی۔ ٹرسٹ کوپیسے جہانگیر ترین نے دئیے تھے۔ سکندر بشیرنے آگاہ کیا کہ ٹرسٹ کو پیسے جہانگیرترین نے دئیے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ شائنی ویوکمپنی کا نام پہلے کیا تھا اور کس کے نام تھی۔ جسٹس عمرعطا بندیال کا کہنا تھا کہ یہ نئی کمپنی تھی اپریل دوہزار سترہ میں بنائی گئی۔ سکندر بشیر کا کہنا تھا کہ جہانگیرترین نے قانونی آمدن سے رقم بھیجی۔ میرے موقف کے خلاف کوئی مواد نہیں ہے۔ عدالت میں جوکہا اس پرقائم ہوں۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ یہ ہوسکتا ہے کہ اثاثہ آپ کا ہو لیکن ظاہر نہیں کیا گیا۔ یہ ٹھیک ہے کہ پیسہ قانونی طریقے سے بھیجا گیا۔ جہانگیرترین نےتمام منی ٹریل بتائی ہے۔ سکندر بشیر کا کہنا تھا کہ عدالت صوابدیدی کے لفظ کو نظر انداز نہ کرے۔ ٹرسٹی جہانگیر ترین کا تاحیات ٹرسٹی ہونا ختم کر سکتا ہے۔ ٹرسٹ ڈیڈ کے ذریعے جہانگیرترین نے اپنے ہاتھ کاٹ کردے دئیے ہیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ ٹرسٹ ڈیڈ میں کہاں لکھا ہے کہ جائیداد کو کرایہ پرنہیں دیاجا سکتا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جہانگیر ترین کے پہلے تحریری جواب اور ٹرسٹ ڈیڈ میں تضاد ہیں۔ جہانگیر ترین صوابدیدی نہیں تاحیات بینفشری ہیں۔ جہانگیرترین کے تحریری جواب سے افسوس ہوا جس پر سکندر بشیر نے کہا کہ عدالت سے غلطیوں پرمعافی مانگتا ہوں۔ عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

Most Popular