آپس کی لڑائی میں ایسا لگ رہا ہے ہم سب ہار گئے، جیتا کوئی بھی نہیں، سارے معاملے میں سیاست دانوں کا امیج خراب ہوا: سعد رفیق

آپس کی لڑائی میں ایسا لگ رہا ہے ہم سب ہار گئے، جیتا کوئی بھی نہیں، سارے معاملے میں سیاست دانوں کا امیج خراب ہوا: سعد رفیق

آپس کی لڑائی میں ایسا لگ رہا ہے ہم سب ہار گئے، جیتا کوئی بھی نہیں، سارے معاملے میں سیاست دانوں کا امیج خراب ہوا: سعد رفیق

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ وہ کس بات کی معافی مانگیں، انہوں نے کوئی توہین عدالت نہیں کی بلکہ اپنا موقف پیش کیا، عمران خان ،شیخ رشید عدالت کے خودساختہ ترجمان بنے ہیں، ان تینوں کی تقاریر بھی عدالت میں جمع کروانے میں کوئی مضحکہ نہیں۔وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ پاناما کیس اسپانسرڈ سازش ہے جو باہر سے کی جارہی ہے، بتائیں کون سی کرپشن ہوئی ہے، آپس کی لڑائی میں ایسا لگ رہا ہے ہم سب ہار گئے ، جیتا کوئی بھی نہیں،، سارے معاملے میں سیاست دانوں کا امیج خراب ہوا، 2018 کے الیکشن کیلئے جو بیانیہ بن رہا ہے، ایک دوسرے کو چور اور ڈاکو قرار دینا ہوگا۔سعد رفیق نے کہا کہ ہم پاکستان کو آگے لےکر جانا چاہتے ہیں لیکن مخالفین ہمیں کھینچنے کے چکر میں ملک کو پیچھے لے جارہے ہیں، اچھا ہوتا کہ سیاسی جماعتیں کارکردگی کی بنیادپرآگے بڑھنے کی کوشش کرتیں لیکن ہمارا وقت ضائع کرنے کے لیے دھاندلی کےالزامات اور دھرنے جیسے طریقے استعمال کیے گئے۔ پاناما کیس اب قانونی انداز سے لڑا جائے گا اور اس سلسلے میں تمام آپشن زیر غور ہیں۔

عمران خان سمجھتے ہیں الزام اور بہتان بازی سے اپنے قدم آگے بڑھا لیں گے، سعد رفیق

اٹارنی جنرل سے قانونی مشاورت کیلئے آئے تھے، مخالفین کو انتخابات کے ایک سال بعد دھاندلی نظر آئی، ہم پاکستان کو آگے لے جانا چاہتے ہیں، پاناما کیس اسپانسرڈ سازش ہے، سیاسی حملے کا جواب دینا ہوتا ہے ، مافی کس بات کی مانگوں، میں نے کوئی توہین عدالت نہیں کی، عدالتوں میں پٹشن لانے والوں نے کس کا بھلا کیا، دھرنا ون کے دوران ہمارے دو ڈھائی سال ضائع کئے گئے، ووٹ کے ذریعے آئے ہیں، ووٹ کے ذریعے جائیں گے، آپس کی لڑائی میں ایسا لگ رہا ہے ہم سب ہار گئے ، جیتا کوئی بھی نہیں، کارکردگی کی بجائے الزامات لگانا جہالت کی سیاست ہے، کارکردگی کی بنیاد پر سیاست آگے بڑھانا چاہتے تھے، طاقت ور پاکستان کسی سے ہضم نہیں ہوا، پاکستان کے خلاف عالمی سازشوں کی تاریخ ہے، کونسی کرپشن ہوئی اور کہاں ہوئی، بتایا جائے، الزامات لگانے والے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں، سارے معاملے میں سیاست دانوں کا امیج خراب ہوا، الزامات کی بنیاد پر سیاست ہو رہی ہے کارکردگی کی بنیاد پر نہیں،۔ عمران خان سمجھتے ہیں الزام اور بہتان بازی سے اپنے قدم آگے بڑھا لیں گے، عمران خان ناتجربہ کار سیاست دان ہیں، 2018 کے الیکشن کیلئے جو بیانیہ بن رہا ہے، ایک دوسرے کو چور اور ڈاکو قرار دینا ہوگا، 4سال سے ایسی صورتحال سے دوچار ہیں، عمران خان سمجھتے ہیں مخالف کا قد چھوٹا کر کے وہ بڑے ہو جائیں گے، تحفظات کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے، خواجہ سعد رفیق

Most Popular