نیشنل ایکشن پلا ن پر عملدرآمد پر تاخیر بالواستہ دہشت گردی کی حوصلہ افزائی ہے۔ سردارعتیق احمد خان

نیشنل ایکشن پلا ن پر عملدرآمد پر تاخیر بالواستہ دہشت گردی کی حوصلہ افزائی ہے۔ سردارعتیق احمد خان

آل جموںو کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلا ن پر عملدرآمد پر تاخیر بالواستہ دہشت گردی کی حوصلہ افزائی ہے۔ فوجی عدالتوں کے خلاف حکمرانوں کی بیان بازی اس بات کا ثبوت ہے کہ فوج کے کام میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے۔ مسلح افواج پاکستان تو اپنی قوم کے ساتھ کھڑی ہے لیکن حکمران طبقہ نریندر مودی اور ا جیت ڈول کی محبت میں گرفتاردکھائی دیتا ہے۔ اندرون پنجاب اور اندرون سندھ آپریشن میں رکاوٹ کا مقصد ہی دہشت گردوں اور انتہاء پسندوں کو بچا کر رکھنا ہے۔ افواج پاکستان کو امن امان کی صورت حال میں مصروف کر کے ہندوستان کشمیر اور سرحدات پر اپنی مرضی کا کھیل کھیلنا چاہتا ہے۔ حکمران اور وہ چند سیاست دان جو اپنی جمہوریت کو دہشت گردوں اور پیشہ ور مجرموں کی امداد سے چلا کے رکھنا چاہتے ہیں وہ سب بھی افواج پاکستان سے خوف زدہ دکھائی دیتے ہیں۔ نواز لیگ حکومت ماضی قریب میں جب بھی مشکل میں گرفتار ہوئی ہے تو ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ دہشت گردی کے بعد واقعات کی اوقات ایسے ہیں کہ وہ نواز حکومت بچائو اقدامات دکھائی دیتے ہیں ۔ نیشنل ایکشن پلان پر بلا تاخیر آغاز کرتے ہوئے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی جائے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے سانحہ سیون شریف پر رد عمل دیتے ہوئے کیا۔سردار عتیق نے کہا کہ لاہور اور سیون شریف حملے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ دہشت گردی کی یہ نئی لہر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا رخ بھی کر سکتی ہے۔ آزادکشمیر کی حکومت اور عوام کو چاہئے کہ فوجی اداروں سے مکمل تعاون کریں۔ سکولوں ، کالجوں ، ہسپتالوںاور عوامی مراکز کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔ سکولوں کے طلبہ و طالبات کو آس پاس نظر رکھنی ہوگی۔ اس لہر کو روکنا صر ف حکومت اور اداروں کے بس کی بات نہیں بلکہ ہم سب نے ملکر کر اس کو روکنا ہوگا۔ نواز شریف کی حکومت اور اُس کے چند وزراء فوجی عدالتوں کی مخالفت کر رہے ہیں جبکہ کراچی میں بھی کچھ لوگ جزوی طور پر سوگ کر رہے ہیں۔ رینجرز اور پاک فوج کو نواز حکومت کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف تعاون حاصل نہیں اس لیے دفاعی اداروں اور عوام کو ملکر اس طوفان کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ اس وقت جماعتوں ، فرقوں اور علاقوں کے بجائے ملکر اس لہر کو روکا جا سکتا ہے۔ چونکہ ہندوستان اس وقت بدحواسی کا شکار ہے ،ا اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ دہشت گردوں کا اگلہ نشانہ آزادکشمیر اور گلگت بلتستان ہو سکتا ہے۔ سری نگر میں ہر طرح کی کارروائی کشمیری عوام نے ناکام بنا دی ہے۔ ہندوستان کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ ہندوستان اس دہشت گردی کو ہر گھر گھر اور ادارے تک پہنچانا چاہتا ہے۔ ہندوستان کو پاک چین راہ داری سے خوف ہے ، ہندوستان مغرب دنیا کے بدلتے ہوئے حالات سے استفادہ کرنا چاہتا ہے اورافغانستان کے راستے پاکستان میں دبائو ڈالنا چاہتا ہے۔ ہندوستانی ماہرین پاکستان کے اندرونی عدم استحکام سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ بات بھی سمجھ سے بالا تر ہے کہ جب بھی نواز حکومت پر سیاسی ، عدالتی اور صحافتی دبائو بڑھتا ہے تو ملک کے سرحدی علاقوں پر ہندوستان کی طرف سے فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے یا پھرملک کے اندر دھماکے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ سانحہ پشاور ، سانحہ کوئٹہ ، سانحہ لاہور اور آج کا واقعہ اسی کی کڑی ہے۔ صدر مسلم کانفرنس نے کہا کہ میں کسی پہ الزام نہیں لگاتا لیکن واقعات کی کڑی سے کڑی ملتی جا رہی ہے۔ اس بات کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے کہ کیا یہ سب اتفاقیہ ہے یا کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ آرمی چیف نے پنجاب اور گجرانوالہ گریثرن میں دہشت گردوں اور اُن کے سہولت کاروں کے خلاف پنجاب اور لاہور میں آپریشن شروع کرنے کی بات کی تو اس کے ساتھ ہی دہشت گردی کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا۔ سردار عتیق نے کہا کہ ہم سب کو اجتماعی توبہ استغفار کے ساتھ ساتھ مدارس اور سکولز میں اذانیں شروع کرنی چاہئیں۔ اس طرح کی دہشت گردی پر مظاہرے کرنے اور ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہنے سے فائدہ نہیں ہو سکتا۔ اگر حملہ یکساں تو جواب بھی یکساں ملکر دینا ہوگا۔ قبل از وقت پیش بندی کرنا ضروری ہے۔ ہر جماعت دوسری جماعت کے ساتھ تعاون کرے۔ ساری قوم متحد اور یک جان ہو جائے۔ اگر آج حکومت اور اپوزیشن دہشت گردی کے خلاف ملکر پاک فوج کی پشت پر کھڑی ہو جائیں تو یہ کاروائیاں دم توڑ سکتی ہیں۔

Most Popular