شہباز شریف سے پہلے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے دو صاحبزادے بھی جے آئی ٹی میں پیش ہو چکے ہیں

شہباز شریف سے پہلے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے دو صاحبزادے بھی جے آئی ٹی میں پیش ہو چکے ہیں

پاناما لیکس پر بننے والی جے آئی ٹی کا انتالیس واں اجلاس، وزیراعظم نواز شریف، حسین نواز اور حسن نواز کے بعد وزیراعلی پنجاب کی بھی پیشی، پندرہ جون کو وزیراعظم نواز شریف جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے، چھ رکنی ٹیم نے بند کمرے میں وزیراعظم سے سوالات کئیے،اٹھائیس مئی، 30 مئی ، اور پھر یکم جون کو وزیراعظم کے بڑے صاحبزادے حسین نواز تین بار مشترکا تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے، ان سے کئی گھنٹے کی تفتیش کی گئی، یکم جون کو حسین نواز تیسری بار جبکہ چوتھی مرتبہ تین جون کو پیش ہوئ، اور جے آئی ٹی کے سوالات کے جوابات دئیے، چوتھی پیشی کے بعد حسین نواز کی متنازعہ تصویر لیک ہوئی تو انہوں نے سپریم کورٹ میں درخواست جمع کرا دی، جس کے بعد ایک بار پھر وہ نو جون کو پیش ہوئے،دوسری جانب دو جون اور پھر آٹھ جون کو وزیراعظم نواز شریف کے چھوٹے بیٹے حسن نواز دو مرتبہ پیش ہوئے دو پیشیوں کے دوران ان سے سات گھنٹے تک سوالات کئے گئے،ے آئی ٹی نے 23 جون کو سابق وفاقی وزیرداخلہ رحمن ملک کی طلبی کا نوٹس جاری کر رکھا ہے
پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے پانچ مئی کو جے آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی جبکہ اس نے آٹھ مئی کو کام کا باقاعدہ آغاز کیا عدالت عظمیٰ نے جے آئی ٹی کو ساٹھ روز کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔

Most Popular