ڈی جی آئی بی نے سپریم کورٹ میں داخل کرائے گئے جواب میں جے آئی ٹی ارکان کی جاسوسی کااعتراف کر لیا

ڈی جی آئی بی نے  سپریم کورٹ میں داخل کرائے گئے جواب میں جے آئی ٹی ارکان کی جاسوسی کااعتراف کر لیا

پانامہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی درخواست میں مختلف وفاقی اداروں پر تحقیقاتی عمل میں رکاوٹیں ڈالنے اور جے آئی ٹی اراکین کی جاسوسی کا الزام لگایا تھا،ڈائریکٹر جنرل آئی بی آفتاب سلطان نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کراتے ہوئے جے آئی ٹی ممبران کے کوائف اکٹھا کرنے کا اعتراف کیا ہے ،، ڈی جی کا کہنا تھا کہ آئی بی قومی اہمیت کے ہر معاملے کی معلومات اکھٹی کرتی ہے اور اعلی عہدوں پر تعینات سرکاری ملازمین کا ڈیٹا اکھٹا کرنا آئی بی کا معمول کا کام ہے ،ڈی جی آئی بی کے مطابق پانامہ کیس انتہائی اہم ہے اور اسکے ملکی سیاست پر اثرات ہیں جس کے باعث جے آئی ٹی ارکان کے کوائف جمع کیے گئے ،،،تاہم انھوں نے جے آئی ٹی رکن بلال رسول اور ان کی اہلیہ کو ہراساں کرنے سے متعلق الزامات کی تردید کر دی ، ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کے کسی بھی رکن کو ہراساں یا نجی زندگی میں مداخلت نہیں کی گئی،تاہم ڈی جی آئی بی کے جواب میں بلال رسول کےاس ملازم کا ذکر نہیں جسے ہراساں کئے جانے کا الزام عائد کیا گیا تھا ،،ادھر چیئرمین ایس ای سی پی نے جمع کرائے گئے اپنے جواب میں عدالت سے واٹس ایپ کال کا نوٹس لینے کامطالبہ کردیا ،،ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو تنازع میں گھسیٹنے کا الزام لگایا، تاہم انھوں نے کال کی اصلیت سے لاعلمی کا اظہار کیا ،،انھوں نے کہا کہ وہ نہیں جانتے ممبر کی نامزدگی کے لئے واٹس ایپ کال رجسٹرار آفس سے کی گئی یا کسی اور نے کی،،معاملے کیانکوائری سے ہی حقائق سامنے آسکتے ہیں،

Most Popular