عمران خان پر لگائے گئے الزامات ابھی موجود ہیں، ریفرنس کو دوبارہ چیلنج کریںگے۔ رانا ثناء اللہ

عمران خان پر لگائے گئے الزامات ابھی موجود ہیں، ریفرنس کو دوبارہ چیلنج کریںگے۔ رانا ثناء اللہ

صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن نے ٹیکنیکل گراؤنڈ پر ریفرنس کو خارج کیا ہے ۔ عمران خان پر لگائے گئے الزامات ابھی تک موجود ہیں ۔عمران خان کے خلاف ریفرنس کو دوبارہ چیلنج کریں گے ۔ وہ پنجاب اسمبلی کے احاطہ میں میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ رانا ثناء اللہ خان نے کہا کہ وہ یہی الیکشن کمیشن ہے جس پرعمران خان الزامات لگاتے رہے ہیں اور جب ان کے خلاف ریفرنس اسی الیکشن کمیشن نے خارج کیا تو اسے حق سچ کا فیصلہ قرار دے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان جو سالہا سال سے سیاست میں موجود ہیں ان کی تمام سیاست منفی رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ کیس میں وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے بچوں کے ساتھ خود کو پیش کیا اورکسی ٹیکنیکل گراؤنڈ کا سہارا نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) پانامہ کیس کے حوالے سے جو بھی فیصلہ آئے گا اسے تسلیم کرے گی اور ہماری توقع ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) اس کیس میں بھی سرخرو ہوگی۔ فوجی عدالتوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت کا اس حوالے سے واضح موقف موجود ہے لیکن پیپلز پارٹی پر ہماری گولی اثر نہیں کرتی لیکن اب معلوم نہیں ان کو کہاں سے گولی ملی ہے جس کے بعد اعتزاز احسن جو بہت بڑے قانون دان اور مفکر بنے پھرتے ہیں کل وہ بھیگی بلی بن کر بیٹھے، فوجی عدالتوں کی حمایت کر رہے تھے۔ اورنج لائن ٹرین منصوبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہصرف لاہور کا نہیں بلکہ پنجاب اور پاکستان کے عوام کا منصوبہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہمسایہ ملک کی طرف سے اس منصوبے کے لئے دیئے جانے والے فنڈز سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ۔ اس منصوبے پر ڈیڑھ سو ارب یا 154ارب روپے لاگت آئے گی جس میں سے ایک پیسہ بھی حکومت خرچ نہیں کررہی۔ انہوں نے کہا کہ ابتدا میں اورنج لائن ٹرین پر پانچ لاکھ افراد اور دس سال بعداس سے ڈبل تعداد میں لوگ سفر کریں گے ۔ آج اس منصوبہ پر تقریبا ڈیڑھ سو ارب روپے خرچ کیا جا رہا ہے جبکہ پانچ سال بعد 400 ارب روپے کا ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں میٹروبس پر سبسڈی کا شور مچایا جاتا ہے اگر حکومت سبسڈی ختم کردی تو بھی عوام کو نسبتا سستی اور زیادہ آرام دہ سواری میسر آئے گی اوران دونوں منصوبوں یعنی میٹروبس اور اورنج لائن ٹرین پر حکومت سبسڈی نہ دے تو منافع بھی کمایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی بھی کیس کے تحت اورنج لائن ٹرین منصوبے کو روکا گیا تو یہ عوام کے لئے بہت بڑی بدقسمتی ہو گی۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں موٹر وے کی تعمیر کی بھی بہت مخالفت کی گئی جو 28 ارب روپے میں تعمیر کی گئی ۔ اس وقت اس کی مرمت کی لاگت 28 ارب روپے سے زیادہ ہے ۔ اگر یہ موٹروے آج تعمیر کی جاتی تو اس پر پانچ سے چھ سو ارب روپے خرچ آتا۔ اگر موٹروے تعمیر نہ کی جاتی تو لاہور سے اسلام آباد کا سفر بہت مشکل ہو گیا ہوتااور اسلام آباد جانے والا مسافر دوسرے روز ہی وہاں پہنچتا۔ پی آئی اے کی نج کاری کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آؤٹ سورس ادارے میرٹ پر کئے جا رہے ہیں اگر کوئی فرنٹ مین کے ذریعے دیا گیا ہے تو اپوزیشن الزام تراشی اور ڈرامے کرنے کی بجائے عدالت میں ثبوت کے ساتھ چیلنج کرے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت جھوٹ کی سیاست کر رہی ہے ۔ پنجاب میں شوکت بسرا والا واقعہ بسرا کا اپنا بنایا ہوا ڈرامہ تھا جس میں ضیاء الحق ایم این اے سمیت ہمارے بے گناہ ایم پی اے کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے جبکہ لاہور میں بابرسہیل بٹ کا قتل انتہائی افسوسناک ہے ۔ جس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں لیکن ان کا قتل بھی ایک خاندانی دشمنی کی وجہ سے کیا گیا ہے اس کو سیاسی قتل کہنا پیپلز پارٹی کا بہت بڑا جھوٹ ہے ۔

Most Popular