سپریم کورٹ نےوفاقی حکومت کیجانب سے ایل این جی پالیسی پرلاہورہائی کورٹ کاحکم امتناعی خارج کرنےکی درخواست مسترد کردی

سپریم کورٹ نےوفاقی حکومت کیجانب سے ایل این جی پالیسی پرلاہورہائی کورٹ کاحکم امتناعی خارج کرنےکی درخواست مسترد کردی

چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نےدرخواست کی سماعت کی۔ وفاق کیجانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اے کے آغا نےعدالت میں پیش ہو کر بتایا کہ ایل این جی پالیسی کا مقصد گیس کی قلت کا خاتمہ کرنا ہے لیکن لاہور ہائی کورٹ کیجانب سےحکم امتناعی جاری ہونےکی وجہ سےپالیسی نافذ کرنےمیں مشکلات کا سامنا ہے۔سماعت کےدوران جسٹس افتخارمحمد چوہدری نےریمارکس دیئےکہ عوام گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ برداشت نہیں کرسکتے،یہ معاملہ لاہورہائی کورٹ میں زیرسماعت ہےاوراس پرعبوریحکم جاری کرنا مناسب نہیں ہوگا۔سپریم کورٹ نےوفاق کوہدایت کی کہ وہ لاہورہائی کورٹ میں حکم امتناعی کے حوالےدرخواست دائرکریں۔چیف جسٹس نے مختلف اخبارات کا حوالہ دیتےہوئےکہا کہ یہ پالیسی ایک شخص کونوازنےکیلئےبنائی گئی ہےتاہم ایڈیشنل اٹارنی جنرل نےعدالت کوبتایا کہ اگر ہائی کورٹ کا فیصلہ حکومت کیخلاف آیا تولیوی ٹیکس کی مد میں وصول کی گئی رقم کمپنیز کو واپس کردی جائیگی۔ چیف جسٹس نے لاہور ہائیکورٹ کو جلد سماعت کی درخواست دائر ہونے کے بعد معاملہ دو ہفتے میں نمٹانے کی ہدایت بھی کی ۔

About the author /

Waqt News

Waqt News Web Team

Most Popular