الیکٹرانک میڈیا بیرون ملک پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے پر توجہ مرکوز کرے۔ سپیکر قومی اسمبلی

الیکٹرانک میڈیا بیرون ملک پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے پر توجہ مرکوز کرے۔ سپیکر قومی اسمبلی

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایازصادق نے الیکٹرانک میڈیا پر زور دیا ہے کہ ہے کہ وہ بیرون ملک پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے اور عالمی ذرائع ابلاغ کے منفی پراپیگنڈے کا مقابلہ کرنے پر بھی توجہ مرکوز کرے ۔ بدھ کو پارلیمنٹ ہاﺅس میں پارلیمنٹری رپورٹرز ایسوسی ایشن (پی آر اے) کے نومنتخب عہدیداران کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے تمام نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ذرائع ابلاغ نہ صرف پارلیمنٹ بلکہ پاکستان کی آنکھیں اور کان ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن پارلیمنٹ کی کارکردگی بہتر بنانے اور کمیٹیوں کو مزید مو¿ثر بنانے کے حوالے سے ایک تھنک ٹینک قائم کریں جو ہمیں باقاعدہ ہر تین یا چھ ماہ بعد رپورٹ پیش کریں ۔ اس سے ہمیں پارلیمنٹ کو مزید مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہاکہ بیرونی ڈونرز کے تعاون سے جہاں ارکان پارلیمنٹ کے لئے تربیتی پروگرام مرتب کئے جاتے ہیں وہاں ہم پارلیمانی رپورٹرز کے لئے بھی پروگراموں کا آغاز کریں گے۔ سپیکر نے پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر ٹی وی کیمرا مینوں اور دیگر کام کرنے والے رپورٹرز کی سہولت کے لئے تعمیر کئے جانے والے شیڈ اور میڈیا ڈائس کے حوالے سے وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کے انتہائی سست طرز عمل کو تنقید کو نشانہ بنایا اور یقین دلایا کہ جلد از جلد یہ کام مکمل کرانے کی کوشش کریں گے۔پارلیمنٹ سے باہر صحافیوں کے لئے الگ واش رومز بھی تعمیر کئے جارہے ہیں اور مسجد کی جگہ بھی تلاش کی جارہی ہے ۔ انہوںنے پی آر اے کی نومنتخب قیادت سے توقع ظاہر کی کہ وہ پارلیمانی رپورٹرز کے اعتماد پر پورا اترتے ہوئے ان کے مسائل ہر ممکن طریقے سے حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے ۔ انہوںنے بتایاکہ وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب بھی صحافیوں کی انشورنس اور ان کی صحت کے حوالے سے اقدامات کو یقینی بنانے کاعزم رکھتی ہے ۔ توقع ہے کہ وزارت اطلاعات ساری صحافتی برادری کے مسائل کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کرے گی۔ قبل ازیں سپیکر قومی اسمبلی نے نو منتخب پی آر اے کے عہدیداروں سے حلف لیا ۔ اس موقع پر تقریب میں سینئر صحافی ، وزارت اطلاعات اورقومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے اعلیٰ افسرا ن بھی موجود تھے۔

Most Popular