اسلام آباد ہائیکورٹ نے20 لاکھ روپے کے مچلکوں کےعوض پیپلز پارٹی کےرہنما شرجیل میمن کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی

اسلام آباد ہائیکورٹ نے20 لاکھ روپے کے مچلکوں کےعوض پیپلز پارٹی کےرہنما شرجیل میمن کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی

اسلام آباد ہائیکورٹ میں شرجیل میمن کی راہداری ضمانت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی کی سربراہی میں لیگل ٹیم عدالت میں پیش ہوئی،نیب پراسیکیوٹر کی جانب سے بتایا گیا کہ احتساب عدالت شرجیل میمن کو مفرور قرار دے چکی ہے، ایسی صورتحال میں یہ ضمانت غیرمعمولی ہو گی، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دئیے کہ اگر آپ کہتے ہیں کہ یہ اشتہاری ہیں تو کیا یہ کسی عدالت میں نہیں جا سکتے، صرف حفاظتی ضمانت پر بحث ہو گی، عدالت نے شرجیل میمن کی 15 دن کیلئے حفاظتی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں 20 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرائے اور ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیدیا، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ شرجیل میمن نے عدالت کے سامنے سرنڈر کیا اب وہ مجرم نہیں  ضمانت ملنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ عدالت کی جانب سے کسی قسم کی رعایت کی باتیں بے بنیاد ہیں، ان پر تمام مقدمات جھوٹ پر مبنی ہیں، جو چوہدری نثار اینڈ کمپنی نے دائر کئے، انصاف کی فراہمی پر عدالت کے مشکور ہیںاس موقع پر فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ نیب سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا چھوڑ دے،فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ ثابت ہوگیا ہے کہ پیپلزپارٹی کے جیالے جھوٹے کیسز پر عدالت سے فرار ہونے کے بجائے سامنا کرتے ہیں۔

Most Popular