عمران خان بھی تو زکوة،خیرات اور چندے کے پیسوں کا حساب دیں۔ خواجہ آصف

عمران خان بھی تو زکوة،خیرات اور چندے کے پیسوں کا حساب دیں۔ خواجہ  آصف

وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ہم پانامہ لیکس کے حوالے سے درخواستوں پر سماعت کے دوران اپنے قائد کی طرف سے عدالت میں موجود تھے آئندہ تاریخ میں جو بھی قانونی ضروریات ہوں گی پوری کریں گے۔ہم ہر فورم پر احتساب کے لیے تیار ہیں سپریم کورٹ،الیکشن کمیشن،پارلیمنٹ اور عوام کی عدالت میں بھی پیش ہونے کو تیار ہیں۔ ہر جگہ سرخرو ہوں گے لیکن عمران خان بھی تو زکوة،خیرات اور چندے کے پیسوں کا حساب دیں، امتیاز حیدری کون ہے جس کی کمپنی میں انہوں نے پیسے لگائے مسقط میں زمین اور فرانس میں کلائمیٹ بانڈ لیے ہوئے ہیں سیلاب زدگان کے لیے بنائے جانے والے 3600 گھر کہاں ہیں جبکہ وزیر برائے ریلوے خواجہ محمد سعد رفیق نے کہا ہے کہ کسی شخص کو اس باتت کی اجازت نہیں دی جا سکتتی کہ وہ اپنے ذاتی ایجنڈے کے لیے ملک کے دارالحکومت کو یرغمال بنائے پانامہ لیکس کے حوالے سے سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ چاہے الیکشن کمیشن ہو چاہے سپریم کورٹ ہو قومی اسمبلی ہو ہر جگہ میاں نواز شریف ہر سوال کا جواب دینے کو تیار ہے احتساب سے ہم گھبراتے نہیں اگر عوام کی عدالت بھی لگائی جائے گی ہم وہاں بھی سرخرو ہوں گے کسی عدالت میںجانے پر ہمیں کوئی ہچکچاہٹ نہیں آج سپریم کورٹ میں جو بھی کارروائی ہوئی ہے اسے خوش آمدید کہتے ہیں آئندہ تاریخ میں جو بھی قانونی ضروریات ہوں گئیں پوری کریں گے آج ہم ٹی وی پر تو نہیں آئے ہم اپنے قائد کی طرف سے عدالت میں موجود تھے۔قوم سے وزیراعظم نے دوبار خطاب کیا ۔ایک بار قومی اسمبلی میں خطاب کیا اور ہر فورم پر ہم احتساب کے لیے تیار ہیں لیکن عمران خان بھی تو زکوة، خیرات اور چندے کے پیسوں کا حساب دے اس کا حساب کون لے گا چار سال ہو گئے ہیں یہ سوال کرتے ہوئے کہ آپ زکوة کے پیسے کھا گئے ہیں ہمیں بتائیں تو سہی وہ کدھر گئے ہیں۔امتیاز حیدری کون ہے جس کی کمپنی میں انہوں نے پیسے لگائے ہوئے ہیں مسقط میں زمین اور فرانس میں کلائمیٹ بانڈ لیے ہوئے ان کا کوئی حساب تو دو تین تین سال تم بیلنس شیٹ نہیں دیتے لوگوں کے خیرات اور زکوة کے پیسے ہیں جس کا وہ حساب نہیں دے رہا سیلاب زدگان کے پیسے ہیں کہاں ہیں 3600 گھر بتائیں جبکہ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ روز اول سے جب سے پانامہ پیپرز کا ایشو سامنے آیا حکومت نے وزیراعظم نے تمام کوششیں کی ہیں کہ اس مسئلہ کو مناسب قانونی فورم پر لے جایا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی سامنے آئے۔ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے حکومت نے کوشش کی اور وزیراعظم میڈیا کے سامنے آئے اورکہا کہ کسی بھی اچھی شہرت والے ریٹائرڈ جج پر مشتمل کمیشن بنایا جائے۔ اس پر عمران خان اور ان کے ہم نواؤں نے شور مچا دیا اور طوفان کھڑا کیا۔ اس کے بعد کوئی معزز جج تیار نہیں ہوا۔ اس کے بعد سپریم کورٹ کو خط لکھا گیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ کام لمبا ہے اور موجودہ قانون میں اتنی طاقت نہیں ہم نے فوراً اپوزیشن سے رجوع کیا اور ٹی او آرز کے لئے میراتھن سیشن کئے اور اپنا ٹی او آرز کا ڈرافٹ اپوزیشن کے سامنے رکھا لیکن اس کے مقابلہ میں اپوزیشن کی جانب سے جو 15 سوالات آئے وہ ٹی او آر نہیں تھے۔ وہ ایک شخصیت کے لئے مخصوص تھے اور نظر آ رہا تھا کہ یہ نوازشریف کی ذات کو ٹارگٹ کرنا چاہتے ہیں اور واضح ہو گیا کہ عمران خان اور دیگر جماعتوں کے وکلاء مسئلہ کا حل نہیں چاہتے وہ مسئلہ کا فیصلہ میڈیا میں کرنا چاہتے ہیں اور دھول اڑا رہے ہیں۔ اس کے بعد ہم نے کوشش کی کہ نیا قانون لائیں اور قومی اسمبلی میں ہم نے جمع بھی کروا دیا۔ سینیٹ میں اپوزیشن والے لے کر آئے لیکن دونوں جگہ عمران خان کے لوگوں نے قائمہ کمیٹیوں سے راہ فرار اختیار کی کیونکہ وہ اداروں پر یقین نہیں رکھتے۔ اب وہ الیکشن کمیشن میں بھی ہمارے خلاف گئے سپریم کورٹ میں بھی گئے اب نتیجہ کیا ہے وہ خود سپریم کورٹ آئے ہیں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے اس کا نوٹس لے لیا ہے۔ اب قوم دھرنے والوں سے اور احتجاج والوں سے ایک ہی سوال پوچھتی ہے۔ اگر آپ عدالت عظمیٰ میں آ گئے ہیں اور بقول آپ کے دادرسی کے عمل کا آغاز ہو گیا ہے تو پھر یہ دھرنا شو کس لئے کر رہے ہیں اور پاکستان کے دارالحکومت کو کیوں بند کرنا چاہتے ہیں۔ آگر آپ کو ملک کے اداروں پر اعتماد ہے جہاں آپ خود آئے ہیں تو پھر اس کا فیصلہ یہاں ہونے دیں۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ دو ہفتے میں آئندہ تاریخ آئے گی۔ اس کے بعد کس شہر کو سیل کرنے کا توڑ پھوڑ کا، تشدد کا، ناکہ بندی کا، گھیراؤ کا اور پاکستان کے دارالحکومت کو گھیرا ڈالنے کا، پہلے بھی کوئی جواز نہیں تھا۔ اب تو یہ جواز بالکل ہی ختم ہو گیا ہے کیونکہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے اس کا نوٹس لیا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر وہ ان اداروں میں آ گئے تو پھر ان اداروں پر اعتماد کریں جہاں تک حکومت کاتعلق ہے۔ ہم پہلے بھی یہی چاہتے ہیں اور ہمیں اطمینان ہے۔ سپریم کورٹ میں کارروائی کا آغاز ہوا ہے۔ وزیراعظم پاکستان ہماری حکومت اور ہم سب لوگ یہ چاہتے ہیں کہ مسئلہ کا فیصلہ جلد از جلد ہو جائے اور سچ لوگوں کے سامنے آ جائے کیونکہ ہمارا میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔ عمران خان اور ان کے کچھ درباری جو ان کا راگ الاپتے ہیں وہ اسی کام پر لگے ہوئے ہیں۔ اصل میں وہ انصاف نہیں چاہتے۔ عمران خان کا اقدام خطرناک ہے۔ وہ ہر قیمت پر چاہتے ہیں اگر میں نہیں آ سکا تو خدانخواستہ جمہوریت گرتی ہے تو گر جائے۔اور یہ اس طرح بڑھنے جا رہے ہیں ان کو اس طرف بڑھنے نہیں دیا جائے گا پوری قوم کہتی ہے کہ جب آپ عدالت عظمیٰ میں آ گئے ہیں تو پھر فیصلے کا انتظار کریں سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ملک میں جمہوریت ہے ہماری حکومت نے ہمیشہ اپوزیشن کو بہت جگہ دی ہے اور ہم نے ہمیشہ بہت برداشت کا مظاہرہ کیا ہے اب بھی حکومت برداشت سے کام لینا چاہتی ہے لیکن اگر کوئی دھمکیاں دے گا جو برابر دی جا رہی ہیں اور یہ کہے گا کہ ہم سرکاری دفاتر کو بند کر دیں گے اور پاکستان جو کہ جوہری طاقت ہے اس کے دارالحکومت کو لاک کر دیں گے اس حوالے سے حکومت مشاورت کر رہی ہے کیا کرنا ہے لیکن میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ کسی شخص کو شرپسندی کرنے کی اجازت تو نہیں دی جا سکتی کہ کھلی چھٹی دے دی جائے آپ ملک کا نقصان کریں ملک کے دارالحکومت کو چند ہزار لوگ لا کر یرغمال بنائیں کسی شخص کو اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اپنے ذاتی ایجنڈہ کے لیے ملک کے دارالحکومت کو یرغمال بنائے یہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔

Most Popular