سپریم کورٹ نے آرٹیکل 184 کے تحت واضح کردیا کہ وزیر اعظم کوعہدے سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔ راجہ ظفر الحق

سپریم کورٹ نے آرٹیکل 184 کے تحت واضح کردیا کہ وزیر اعظم کوعہدے سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔ راجہ ظفر الحق

سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے کہاہے کہ سینیٹ اجلاس ملتوی کرنے کا فیصلہ درست نہیں، عدالت سمجھتی تو کہہ سکتی تھی وزیر اعظم عہدہ چھوڑ دیں ۔سپریم کورٹ نے آرٹیکل 184 کے تحت واضح کردیا کہ وزیر اعظم کو عہدے سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔ انہوں نے جمعہ کو پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے اپوزیشن مایوسی کاشکار ہو گئی ہے، ہم پارلیمنٹ میں بات کرنا چاہتے تھے مگر چیئرمین نے اجلاس ملتوی کردیا۔ انہوں نے کہاکہ 2013 ءکے انتخابات میں ایسی ہی بے چینی کے نتیجہ میں پیپلزپارٹی کو شکست کاسامنا کرنا پڑا اور یہ حرکتیں آئندہ بھی ان کی شکست کا باعث بنیں گی۔ انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے سینیٹ میں جے آئی ٹی کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے مگر سپریم کورٹ نے پاناما کیس کے فیصلے سے واضح کردیا کہ آئین کا آرٹیکل 184 وزیراعظم کو عہدے سے ہٹانے کی اجازت نہیں دیتا ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ عدالت نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کاحکم دیا۔ وزیراعظم کے وکلاءبھی اس ٹیم کوجواب دے سکتے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ یہاں ایک صاحب نے کہاکہ عدالتیں نواز شریف کے خلاف کبھی فیصلہ نہیں دیں گی۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ بھی سمجھتے ہیں کہ عدالتی فیصلہ نوازشریف کے حق میں ہے ۔وزیر اعظم محمد نواز شریف عدالت میں سرخروہوگئے۔ایک سوال کے جواب میںانہوں نے کہاکہ ضروری نہیں کہ وزیر اعظم مستعفی ہوکرانکوائری ٹیم کے سامنے پیش ہوں ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پہلے بھی عمران خان سڑکوں پر آئے تو کیاہوا ، وہ اب بھی اپنا شوق پورا کرلیں ۔

Most Popular