اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی حاضری سے استشنٰی کی درخواست مسترد کردی

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی حاضری سے استشنٰی کی درخواست مسترد کردی

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں شریف فیملی کیخلاف ریفرنسز کی سماعت جج محمد بشیر نے کی۔ نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ عدالتوں کو بہت آسان لیا جا رہا ہے جس پرجج محمد بشیر نے کہا کہ آپ تبصرہ نہ کریں دلائل دیں۔ یہاں مجمع نہیں لگا کہ آپ ایسے بات کر رہے ہیں۔ ہم نے قانون پر چلنا ہے۔ عدالت میں صرف قانونی بات ہوگی۔ جج غیرجابندار ہوتا ہے۔ میرا نیب یا ملزمان سے کوئی رابطہ نہیں۔ نیب پراسیکیوٹرکا کہنا تھا کہ چوبیس اکتوبر کو نوازشریف کا اسثنیٰ ختم ہوچکا ہے۔ بار بار استثنی کی درخواستیں دائر کی جارہی ہیں۔ عدالت سے استدعا ہے کہ نوازشریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے جائیں اور استثنیٰ کی درخواست مسترد کی جائے۔ نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے۔ حاضری سے استثنی دیا جائے جس پر نیب نے اسثنیٰ کی درخواست کی مخالفت کردی۔ نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ عدالت نے پندرہ روز کا وقت دیا تھا۔ اب ملزم کو یہاں ہونا چاہئے۔ خواجہ حارث نے کلثوم نواز کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کردی۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کلثوم نواز کی کیموتھراپی ہونی ہے۔ سماعت میں ایس ای سی پی کی سدرہ منصور بطورہ گواہ عدالت میں پیش ہوئیں۔ نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ملزمان کی عدم موجودگی میں گواہ کا بیان نہیں ہوسکتا۔ عدالت نے نیب کی وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا منظور کرتے ہوئے ملزاور فلیگ شپ انوسٹمنٹ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔ ایک ریفرنسز میں نوازشریف کے ضامنوں کو نوٹسز جاری کئے گئے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ نوازشریف کو پیش ہونے کا آخری کا موقع دیا گیا ہے۔ نوازشریف آئندہ سماعت پر پیش نہ ہوئے تو گرفتاری کا حکم دیا جائیگا۔ عدالت نے لندن فلیٹ ریفرنس کی سماعت تین نومبر تک ملتوی کردی۔

Most Popular