ارکان پارلیمنٹ فوج اورعوام کے ڈر سے سفارشات پر بحث کرنےسے خوفزدہ رہے ہیں۔ مشاہد حیسن

ارکان پارلیمنٹ  فوج اورعوام کے ڈر سے سفارشات پر بحث کرنےسے خوفزدہ رہے ہیں۔ مشاہد حیسن

سپیکرفہمیدہ مرزا کی زیر صدارت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قومی سلامتی کی سفارشات پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے سینیٹرمشاہد حیسن نے کہا کہ پہلے سیاسیتدانوں کوامریکہ کا خوف ہوتاتھا لیکن اب فوج اورعوام کے ڈرسے کمیٹی کی سفارشات پربحث نہیں کی جارہی ہے مشاہد حیسن نے کہا کہ آج اسٹیبلشمنٹ ٹوٹ چکی ہے جبکہ پارلیمان متحد ہے جسے اپنے فیصلے کرنے ہیں کسی سے سرٹیفیکیٹ نہیں لینا،انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسامہ کی بیوہ اور بچوں کو چھوڑ دینا چاہئیے، مولانا عبدالمالک نے بحث میں حصہ لیتے ھوئے کہا کہ نیٹوکو سپلائی کسی صورت بحال نہیں ھونی چاہیں، اخوان ذرہ چٹان کا کہنا تھا کہ خارجہ پالیسی ہمیشہ عوام کی امنگوں کے خلاف بنائیں گئیں اب بھی کچھ لوگ حساس معاملے پرسیاسی پوائنٹ سکورننگ کررہے ہیں مولانا شیرانی نے کہا کہ پہلے دہشت گردی اور جہاد کی تعریف واضح کرنا ضروری ھے انکا کہنا تھا کہ ملک میں انتشار پھیلاکرسامراجی قوتیں فائدہ اٹھارہی ھے، اجلاس کے دوران ایوان نے انتخابی حلقہ بندیاں ترمیمی بل دوہزار گیارہ مداربہ کمپینز ترمیمی بل دوہزار نو کی منظوری بھی دی جسکے بعد مشرکہ اجلاس پانچ اپریل کی شام پانچ بجے تک ملتوی کردیا گیا

About the author /

Waqt News

Waqt News Web Team

Most Popular