سپریم کورٹ نے ملک ریاض کے وکیل ڈاکٹر باسط کی جانب سے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کردی۔

سپریم کورٹ نے ملک ریاض کے وکیل ڈاکٹر باسط کی جانب سے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کردی۔

سپریم کورٹ میں ملک ریاض کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت جسٹس شاکراللہ جان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ ڈاکٹر باسط کی جانب سے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ راجہ عبدالغفور نے پیش ہوکربتایا کہ ڈاکٹر باسط ناساز طبیعت کے باعث کارروائی میں شامل نہیں ہوسکتے۔ لہٰذا عدالت ان کی عدم موجودگی میں کارروائی موخر کرے۔ جسٹس شاکراللہ جان نے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قراردیا کہ آج درخواست گزاروں کے وکلا نے دلائل دینا تھے، ڈاکٹر باسط کو پیش ہونے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئےتھا۔ جسٹس شاکراللہ جان نے ایڈووکیٹ آن جنرل کو ہدایت کی کہ وہ درخواست گزاروں کے دلائل نوٹ کرکے ڈاکٹر باسط کو فراہم کریں اور آئندہ سماعت پر ان کی عدم موجودگی کی صورت میں خود دلائل دیں۔ سماعت کے دوران درخواست ایڈووکیٹ اشرف گجر نے موقف اختیار کیا کہ ملک ریاض نے جان بوجھ کر عدلیہ کی تضحیک کی، اگر ملک ریاض کو بلیک میل کیاجارہا تھا تو وہ پریس کانفرنس کرنے کے بجائے حکومتی مشینری سے رابطہ کرتے۔ درخواست گزار مشتاق موہل نے اپنے دلائل میں موقف اختیار کیا کہ ملک ریاض جوڈیشل اور کریمنل توہین عدالت کے مرتکب ہوئے جس میں عدالت ازخود نوٹس بھی لے سکتی ہے، اس لئے ڈاکٹر باسط کی پٹیشنز ناقابل سماعت قرار دینے استدعا درست نہیں۔ درخواست گزاروں کے دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے مقدمہ کی سماعت بارہ جولائی تک ملتوی کردی ہے۔

About the author /

Waqt News

Waqt News Web Team

Most Popular