دو ہزار آٹھ میں آنے والے زلزلے کو بارہ سال بیت گئے

دو ہزار آٹھ میں آنے والے زلزلے کو بارہ سال بیت گئے

بارہ سال پہلے صبح آٹھ بجکر باون منٹ پر قیامت ٹوٹی،،، خوفناک زلزلے نے آزاد کشمیر کو آن گھیرا، زمین سرکی، پلک جھپکتے ہی پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گئے،، دھواں اٹھنے لگا،، چیخ پکار، آہ بکا کا عالم تھا، زمین سپاٹ میدان میں بدل گئی، پوری کی پوری بستیاں اجڑ گئیں،ریکٹر اسکیل پر اس زلزلے کی شدت 7.6 اور 7.8 کے درمیان تھی۔ پہاڑ اپنے باسیوں پر ٹوٹ پڑے گھر اپنے ہی گھرانوں کو کھا گئے، زمین ہزاروں زندگیاں نگل گئی، شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیرکے کئی علاقوں میں تو ماتم کرنے والا بھی کوئی نہ بچا، اسلام آباد کا مارگلہ ٹاور زمین بوس ہو گیا، شہر اقتدار میں بھی صف ماتم بچھ گیا۔قیامت خیز زلزلے کی دالخراش یادیں آج بھی تازہ ہیں، معذور ہونے والے ہزاروں افراد کے دلوں پر قیامت کی یہ گھڑی آج بھی نقش ہے، جو لاچاری اور مجبوری کا تن تنہا مقابلہ کررہے ہیں، اربوں روپے کی فنڈنگ کے باوجود بحالی اور تعمیر نو کے کام مکمل نہیں کئے جا سکے، ہر سال دعائیں اور خاموشیاں تو اختیار کی جاتی ہیں لیکن داد رسی کرنے والا کوئی نہیں، آج بھی لوگ بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔

Most Popular