قصور میں بچیوں کے اغواء کے بعد زیادتی اور پھر قتل کا معاملہ سنگین ہونے لگا

قصور میں بچیوں کے اغواء کے بعد زیادتی اور پھر قتل کا معاملہ سنگین ہونے لگا

قصور میں بچیوں کے اغواء کا معاملہ سنگی،، قانون اور شہریوں کے جان و مال کے محافظ خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے لگے، ایک سال کے دوران بارہ بچیوں کو درندگی کا نشانہ بنادیا گیا، ملزم گرفتار ہوئے نہ ہی ان کی گرفتاری کی کوشش کی گسی، پولیس آج تک ملزمان کا سراغ لگانے میں کامیاب نہ ہوسکی، فرانزک رپورٹس اور دیگر پہلؤؤں پر صرف کاغذی کارروائیاں کی جاتی رہیں، مثبت پہلو آج تک سامنے نہ آسکے، قصور میں معصوم کلیوں کو مسلنے والے ملزمان کی آزادی جہاں شہریوں کیلئے خوف کا سبب بن رہی ہے وہیں پولیس والوں کی کارکردگی پر کھلا سوالیہ نشان ہے، شہریوں کے جان ومال کے رکھوالے شہریوں کو تحفظ دینے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ اس سے پہلے دوہزار پندرہ میں بچوں سے زیادتی کا سب سے بڑا سیکنڈل بھی منظر عام پر آچکا ہے۔ گنڈا سنگھ والا اور دیگر دیہات میں مبینہ طور پر بیس سے پچیس افراد کے گروپ نے دو سو اسی سے زائد نوعمر بچوں اور بچیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا تھا۔

Most Popular