طیبہ تشدد کیس میں سپریم کورٹ پولیس کو 10 روز میں تفتیش مکمل کرنےاوربچی کاماہر نفیسات سے چیک اب کرانے کا حکم دیدیا

طیبہ تشدد کیس میں سپریم کورٹ پولیس کو 10 روز میں تفتیش مکمل کرنےاوربچی کاماہر نفیسات سے چیک اب کرانے کا حکم دیدیا

سپریم کورٹ میں طیبہ تشدد کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی ،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جب بچی ملی تو کیا وہ زخمی حالت میں تھی ، جس پر بچی کے والد ہونے کے دعویدار اعظم نے بیان دیا کہ جی ہاں بچی کے جسم پر تشدد کے نشان تھے ، وکیل ظہور نے رہائش فراہم کرنے کے بعد موبائل سم لے لی وکیل نے سادہ کاغذ پر انگوٹھے لگواکر کہاکہ بچی مل جائے گی،، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بچی کو ملازمت پر کب بھیجا تھا اور ملازمت کیلئے اسے کس کے حوالے کیا؟ جس پر اعظم نے بتایا کہ 14 اگست 2016 کو طیبہ کو ملازمت کیلیے بھیجا،ملازمت کیلیے ہماری پڑوسن طیبہ کو ساتھ لے گئی، عدالت عظمیٰ نے حکم دیا کہ تحقیقات صاف اور شفاف انداز میں کی جائے، نادرا سے بچی کی شناخت کےبارے میں پوچھ گچھ کی جائے ، بچی کی ڈی این اے رپورٹ آنے پر عدالت میں جمع کرائیں، میڈیکل بورڈ سے بھی مزید وضاحت مانگی جائے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اتنی عجلت میں بچی کےوالدین کا تعین کیے بغیر کیسے کسی کے حوالے کی گئی ،کیا وکیل راجا ظہور کو تفتیش میں شامل کیا گیا جس نے صلح نامہ لکھا؟ بچی کاباپ تو کہتا ہے کہ اسے انگوٹھے لگوائے گئے وہ ان پڑھ ہے، بچی کا خوف دور ہونا چاہیے،بچی کو اس وقت الگ رکھنا ضروری ہے،بچی خود بتا سکتی ہے کہ اس کے ساتھ کیا ہوا، ہم نے سچ کا کھوج لگانا ہے،تیز رفتاری سے کیس کا فیصلہ کریں گےعدالت عظمی نے طیبہ کو سویٹ ہومزکے حوالےکردیا،سویٹ ہومز میں پولیس کو ہر طرح کی رسائی حاصل ہو گی، عدالت میں طیبہ کے دیگر تین والدین ہونے کے دعویدار بھی مکر گئے،جنہوں نے بیان دیا کہ بچی ان کی نہیں ، عدالت نے گمشدہ بچیوں سے متعلق متعلقہ اضلاع کے ڈی آئی جیز کو گزارشات سننے کا حکم دیا،جبکہ تشدد کیس میں پولیس کو دس دنوں میں تفتیش مکمل کرنے اور بچی کا ماہر نفسیات سے چیک اپ کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت اٹھارہ جنوری تک ملتوی کر دی،

Most Popular