ججوں کو برا بھلا کہنے والے وکلا کے منہ پر ہاتھ رکھنا بار کی ذمہ داری ہے:جسٹس منظور احمد ملک

 ججوں کو برا بھلا کہنے والے وکلا کے منہ پر ہاتھ رکھنا بار کی ذمہ داری ہے:جسٹس منظور احمد ملک

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے لاہور میں جوڈیشل کمپلیکس کے افتتاح کے موقع پر وکلا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دو فیصد وکلا اٹھانوے فیصد وکلا کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ وکالت کے پیشے کی بدنامی کا باعث بننے والے دو فیصد وکلا کے خلاف کسی مصلحت کے بغیر سخت ایکشن لیا جائے۔ چیف جسٹس منظور احمد ملک نے کہا کہ تمام ادارے قابل احترام ہیں۔ اداروں کے درمیان ٹکراؤ اور نفرت کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ ایک دوسرے کی عزت اور احترام کو ملحوظ رکھے بغیر اداروں کے درمیان موجود تناؤ کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ فوری اور سستے انصاف کی فراہمی وکلا کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ نئے کمپلیکس کی تعمیر میں کردار ادا کرنے والے عدالتی اور انتظامی افسران قابل قدر ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نئے کمپلیکس میں پھٹہ کلچر کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ قبل ازیں چیف جسٹس نے نئے جوڈیشل کمپلیکس، وکلا چیمبرز اور پارکنگ کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر ہائیکورٹ کے ججز،سیشن جج لاہور بہادر خان، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نوید رسول مرزا، ڈٰی جی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی شاہد سعید اور بار کے عہدیدار بھی موجود تھے۔۔

Most Popular