طلبا اور طالبات اپنے حقوق کے لئے ڈٹ گئے۔

طلبا اور طالبات اپنے حقوق کے لئے ڈٹ گئے۔

اسلام آباد قائداعظم یونیورسٹی میں لسانی طلبا تنظیموں کے احتجاج کے باعث آج بھی تدریسی عمل شروع نہیں ہوسکا ہے، احتجاجی طلبا کا موقف ہے کہ یونیورسٹی سے نکالے گئے طلبا کی بحالی اور تیرہ نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری تک احتجاج جاری رکھا جائے گا، یہ معاملہ سینیٹ میں پیش ہوا جہاں پر وزیر تعلیم بلیغ الرحمان نے یونیورسٹی کی طرف سے دی جانے والی سزاوں کو درست قرار دیا، وزیرتعلیم نے چیف کمشنر اسلام آباد کو فوری طور پر طلبا کا احتجاج ختم کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ احتجاجی طلبا کو ایسا کرنے کی اجازت دینے سے جامعات میں مسائل پیدا ہونگے، دوسری طرف ہڑتالی طلبا نے وزیر تعلیم کی جانب سے مذاکرات کی دعوت کو ایک اچھا اقدام قرار دیا لیکن ساتھ ہی کہتےہیں کہ کل ہونے والی پریس کانفرنس کے بعد وی سی آفس سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا، احتجاجی طلباء نے دھمکی دی ہے کہ اگر انتظامیہ نے ان کے احتجاج کو طاقت کا استعمال کرتے ہوئے دبانے کی کوشش کی تو سخت مزاحمت کی جائے گی، واضح رہے کہ گزشتہ نو روز سے قائد اعظم یونیورسٹی میں تدریسی عمل معطل ہے ، جس کی وجہ یونیورسٹی سے نکالے گئے طلبا کا احتجاج ہے، یہ وہ طلبہ ہے جنہیں لسانی جھگڑا کرنے کے باعث یونیورسٹی سے بے دخل کیا گیا ہے۔

Most Popular